السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجزية— جزیہ کا بیان
باب: يشترط عليهم أن يفرقوا بين هيئتهم وهيئة المسلمين باب: ان پر یہ شرط عائد کی جائے گی کہ وہ اپنی ظاہری ہیئت اور مسلمانوں کی ہیئت میں نمایاں فرق رکھیں گے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو السَّيْبَانِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُ مَرَّ بِرَجُلٍ هَيْئَتُهُ هَيْئَةُ رَجُلٍ مُسْلِمٍ، فَسَلَّمَ فَرَدَّ عَلَيْهِ عُقْبَةُ وَعَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، فَقَالَ لَهُ الْغُلَامُ: أَتَدْرِي عَلَى مَنْ رَدَدْتَ؟ فَقَالَ: أَلَيْسَ بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ؟ فَقَالُوا: لَا، وَلَكِنَّهُ نَصْرَانِيٌّ. فَقَامَ عُقْبَةُ فَتَبِعَهُ حَتَّى أَدْرَكَهُ فَقَالَ: إِنَّ رَحْمَةَ اللهِ وَبَرَكَاتِهِ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ، لَكِنْ أَطَالَ اللهُ حَيَاتَكَ وَأَكْثَرَ مَالَكَ وَرُوِّينَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَعْنَاهُ فِي الِابْتِدَاءِ بِالسَّلَامِ.سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کے پاس سے ایک شخص مسلمانوں جیسی حالت والا گزرا اور اس نے سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کو سلام کیا، تو انہوں نے سلام کا جواب دیتے ہوئے کچھ اضافہ کیا کہ ”اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں۔“ تو ان کے غلام نے پوچھا: ”کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ نے کس کو سلام کا جواب دیا ہے؟“ تو وہ کہنے لگے: ”کیا وہ مسلمان انسان نہیں ہے؟“ اس نے کہا: ”نہیں، بلکہ وہ عیسائی ہے۔“ تو سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ اس کے پیچھے گئے یہاں تک کہ اسے جا ملے اور فرمانے لگے: ”اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں مومنین پر ہوں، لیکن اللہ آپ کی لمبی زندگی اور زیادہ مال عطا کرے۔“