حدیث نمبر: 18684
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا شُعْبَةُ، ح وَأَخْبَرَنَا الشَّرِيفُ أَبُو الْفَتْحِ نَاصِرُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعُمَرِيُّ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُرَيْحٍ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، ثنا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي الْحَكَمُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَذَكَرَهُ قَالَ: ثُمَّ أَتَاهُ عُثْمَانُ بْنُ حُنَيْفٍ فجَعَلَ يُكَلِّمُهُ مِنْ وَرَاءِ الْفُسْطَاطِ يَقُولُ: وَاللهِ لَئنْ وَضَعْتَ عَلَى كُلِّ جَرِيبٍ مِنْ أَرْضٍ دِرْهَمًا وَقَفِيزًا مِنْ طَعَامٍ، وَزِدْتَ عَلَى كُلِّ رَأْسٍ دِرْهَمَيْنِ لَا يَشُقُّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ وَلَا يُجْهِدُهُمْ. قَالَ: نَعَمْ، فَكَانَ ثَمَانِيَةً وَأَرْبَعِينَ فَجَعَلَهَا خَمْسِينَ وَرَوَى الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي الْقَدِيمِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ إِذَا اسْتَغْنَى أَهْلُ السَّوَادِ زَادَ عَلَيْهِمْ، وَإِذَا افْتَقَرُوا وَضَعَ عَنْهُمْ، وَهَذَا مُنْقَطِعٌ.
حافظ ثناء اللہ

عمرو بن میمون رحمہ اللہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کے پاس عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ آئے جو خیمہ کے باہر سے ہی بات چیت کر رہے تھے کہ اللہ کی قسم! آپ نے کھیتی والوں پر ایک درہم اور ایک قفیز مقرر کر رکھا ہے، اگر آپ دو درہم بھی مقرر فرما دیں تو یہ بھی ادا کرنا ان کے لیے مشکل نہ ہوگا۔ پہلے ۴۸ درہم بنتے تھے اب ۵۰ مقرر کر دیے۔
(ب) ابن شہاب رحمہ اللہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب اہل سواد مالدار ہو گئے تو ان کا جزیہ زیادہ کر دیا اور جب وہ فقیر ہو جاتے تو جزیہ کم کر دیتے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجزية / حدیث: 18684
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه ابن الجعد»