السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجزية— جزیہ کا بیان
باب: الزيادة على الدينار بالصلح باب: صلح کے ذریعے ایک دینار پر اضافہ کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ خَمِيرَوَيْهِ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا أَبِي، ثنا عُبَيْدُ اللهِ، ثنا نَافِعٌ، عَنْ أَسْلَمَ مَوْلَى عُمَرَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَتَبَ إِلَى أُمَرَاءِ أَهْلِ الْجِزْيَةِ أَنْ لَا يَضَعُوا الْجِزْيَةَ إِلَّا عَلَى مَنْ جَرَتْ أَوْ مَرَّتْ عَلَيْهِمُ الْمَوَاسِي، وَجِزْيَتُهُمْ أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا عَلَى أَهْلِ الْوَرِقِ مِنْهُمْ، وَأَرْبَعَةُ دَنَانِيرَ عَلَى أَهْلِ الذَّهَبِ، وَعَلَيْهِمْ أَرْزَاقُ الْمُسْلِمِينَ مِنَ الْحِنْطَةِ مُدَّيْنِ، وَثَلَاثَةُ أَقْسَاطِ زَيْتٍ لِكُلِّ إِنْسَانٍ كُلَّ شَهْرٍ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ وَأَهْلِ الْجِزْيَةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ إِرْدَبٌّ لِكُلِّ إِنْسَانٍ كُلَّ شَهْرٍ، وَمِنَ الْوَدَكِ وَالْعَسَلِ شَيْءٌ لَمْ نَحْفَظْهُ، وَعَلَيْهِمْ مِنَ الْبَزِّ الَّتِي كَانَ يَكْسُوَهَا أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ النَّاسَ شَيْءٌ لَمْ نَحْفَظْهُ، وَيُضَيِّفُونَ مَنْ نَزَلَ ⦗٣٢٩⦘ بِهِمْ مِنْ أَهْلِ الْإِسْلَامِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، وَعَلَى أَهْلِ الْعِرَاقِ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا لِكُلِّ إِنْسَانٍ، وَكَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَا يَضْرِبُ الْجِزْيَةَ عَلَى النِّسَاءِ، وَكَانَ يَخْتِمُ فِي أَعْنَاقِ رِجَالِ أَهْلِ الْجِزْيَةِ.حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے غلام اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جزیہ وصول کرنے والے امراء کو خط لکھا کہ وہ صرف ان کا جزیہ کم کریں جن پر سال گزر چکا ہو، اور چاندی والوں پر ۴۰ درہم جزیہ ہے اور سونے والوں کے ذمہ ۴ دینار جزیہ ہے، اور ان کے ذمہ ایک «مُدّ» ”مد“ مسلمانوں کا رزق بھی ہے۔ جو جزیرہ اور شامی لوگ ہیں، ان پر ہر انسان کے لیے تیس «لِقَاط» ”لقاط“ تیل کے ہیں اور جو شہری ہیں ان کے ذمہ ہر انسان کے لیے مہینہ میں «إِرْدَبّ» ”اردب“ (۲۴ صاع کے برابر مصری پیمانہ ہے) چکناہٹ اور شہد ہے، مجھے یاد نہیں کتنا ہے، ان پر وہ کپڑا ہے جو امیر المومنین لوگوں کو پہننے کے لیے دیا کرتے تھے اور وہ تین دن تک مسلمانوں کی مہمان نوازی کریں گے اور عراقیوں کے ہر انسان کے ذمہ ۱۵ صاع ہیں، اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ عورتوں پر جزیہ مقرر نہ کرتے تھے اور جزیہ دینے والے افراد کی گردن پر مہر ہوتی تھی۔