❮
❯
حدیث نمبر: 18682
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ خَمِيرَوَيْهِ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا أَبِي، ثنا عُبَيْدُ اللهِ، ثنا نَافِعٌ، عَنْ أَسْلَمَ مَوْلَى عُمَرَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَتَبَ إِلَى أُمَرَاءِ أَهْلِ الْجِزْيَةِ أَنْ لَا يَضَعُوا الْجِزْيَةَ إِلَّا عَلَى مَنْ جَرَتْ أَوْ مَرَّتْ عَلَيْهِمُ الْمَوَاسِي، وَجِزْيَتُهُمْ أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا عَلَى أَهْلِ الْوَرِقِ مِنْهُمْ، وَأَرْبَعَةُ دَنَانِيرَ عَلَى أَهْلِ الذَّهَبِ، وَعَلَيْهِمْ أَرْزَاقُ الْمُسْلِمِينَ مِنَ الْحِنْطَةِ مُدَّيْنِ، وَثَلَاثَةُ أَقْسَاطِ زَيْتٍ لِكُلِّ إِنْسَانٍ كُلَّ شَهْرٍ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ وَأَهْلِ الْجِزْيَةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ إِرْدَبٌّ لِكُلِّ إِنْسَانٍ كُلَّ شَهْرٍ، وَمِنَ الْوَدَكِ وَالْعَسَلِ شَيْءٌ لَمْ نَحْفَظْهُ، وَعَلَيْهِمْ مِنَ الْبَزِّ الَّتِي كَانَ يَكْسُوَهَا أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ النَّاسَ شَيْءٌ لَمْ نَحْفَظْهُ، وَيُضَيِّفُونَ مَنْ نَزَلَ ⦗٣٢٩⦘ بِهِمْ مِنْ أَهْلِ الْإِسْلَامِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، وَعَلَى أَهْلِ الْعِرَاقِ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا لِكُلِّ إِنْسَانٍ، وَكَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَا يَضْرِبُ الْجِزْيَةَ عَلَى النِّسَاءِ، وَكَانَ يَخْتِمُ فِي أَعْنَاقِ رِجَالِ أَهْلِ الْجِزْيَةِ.
حافظ ثناء اللہ

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے غلام اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جزیہ والوں کے امراء کو خط لکھا کہ وہ جزیہ صرف ان پر مقرر کریں جن پر استرے چل چکے ہوں (یعنی بالغ ہوں)، اور ان کا جزیہ چاندی والوں پر 40 درہم اور سونے والوں پر 4 دینار ہے، اور ان کے ذمہ مسلمانوں کا رزق بھی ہے: ہر انسان کے لیے ہر مہینے گندم کے دو «مُدّ» اور تیل کے تین «قِسط»، یہ شام اور جزیرہ والوں پر ہے، اور جو مصر والے ہیں ان کے ذمہ ہر انسان کے لیے مہینہ میں ایک «إِرْدَبّ» ”اردب“ (24 صاع کے برابر مصری پیمانہ ہے) ہے، اور کچھ چکنائی اور شہد ہے جس کی مقدار ہمیں یاد نہیں، اور ان پر کچھ وہ کپڑا ہے جو امیر المومنین لوگوں کو پہننے کے لیے دیا کرتے تھے، اس کی مقدار ہمیں یاد نہیں، اور وہ اپنے پاس اترنے والے مسلمانوں کی تین دن تک مہمان نوازی کریں گے، اور عراقیوں کے ہر انسان کے ذمہ 15 صاع ہیں، اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ عورتوں پر جزیہ مقرر نہ کرتے تھے اور جزیہ دینے والے مردوں کی گردنوں پر مہر لگاتے تھے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجزية / حدیث: 18682
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»