حدیث نمبر: 18617
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الصَّفَّارُ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ، ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، ثنا أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ ثَوْبَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ زَوَى لِيَ الْأَرْضَ حَتَّى رَأَيْتُ مَشَارِقَهَا وَمَغَارِبَهَا، وَأَعْطَانِي الْكَنْزَيْنِ الْأَحْمَرَ وَالْأَبْيَضَ، فَإِنَّ مُلْكَ أُمَّتِي سَيَبْلُغُ مَا زُوِيَ لِي مِنْهَا، وَإِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لَا يُهْلِكَهُمْ بِسَنَةٍ عَامَّةٍ، وَأَنْ لَا يُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ غَيْرِهِمْ فَيُهْلِكَهُمْ، وَأَنْ لَا يَلْبِسَهُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَهُمْ بَأْسَ بَعْضٍ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنِّي إِذَا أَعْطَيْتُ عَطَاءً فَلَا مَرَدَّ لَهُ، إِنِّي أَعْطَيْتُكَ لِأُمَّتِكَ أَنْ لَا يُهْلَكُوا بِسَنَةٍ عَامَّةٍ، وَأَنْ لَا أُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ غَيْرِهِمْ فَيَسْتَبِيحَهُمْ، وَلَوِ اجْتَمَعَ عَلَيْهِمْ مَنْ بَيْنَ أَقْطَارِهَا حَتَّى يَكُونَ بَعْضُهُمْ يُهْلِكُ بَعْضًا، وَبَعْضُهُمْ يَسْبِي بَعْضًا، وَبَعْضُهُمْ يَفْتِنُ بَعْضًا، وَإِنَّهُ سَيَرْجِعُ قَبَائِلُ مِنْ أُمَّتِي إِلَى الشِّرْكِ وَعِبَادَةِ الْأَوْثَانِ، وَإِنَّ مِنْ أَخْوَفِ مَا أَخَافُ الْأَئِمَّةَ الْمُضِلِّينَ، وَإِنَّهُ إِذَا وُضِعَ السَّيْفُ فِيهِمْ لَمْ يُرْفَعْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَإِنَّهُ سَيَخْرُجُ فِي أُمَّتِي كَذَّابُونَ دَجَّالُونَ قَرِيبًا مِنْ ثَلَاثِينَ، وَإِنِّي خَاتَمُ الْأَنْبِيَاءِ لَا نَبِيَّ بَعْدِي، وَلَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ مَنْصُورَةً حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللهِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ هِشَامٍ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اللہ رب العزت نے میرے لیے زمین کو لپیٹ دیا تو میں نے اس کے مشرق اور مغرب کو دیکھ لیا اور اللہ رب العزت نے مجھے سرخ و سفید دو خزانے عطا کیے اور میری امت کی حکومت وہاں تک پہنچے گی جہاں تک میرے لیے زمین کو لپیٹا گیا اور میں نے اللہ رب العزت سے التجا کی کہ میری امت کو قحط سالی اور کسی دشمن کو ان پر مسلط کر کے ہلاک نہ کرے اور یہ کہ یہ آپس میں گروہ بن کر ایک دوسرے کو تکلیف نہ دیں۔ اللہ رب العزت نے فرمایا: اے محمد! جب میں کوئی چیز عطا کر دیتا ہوں تو اسے کوئی واپس کرنے والا نہیں۔ آپ کی امت قحط سالی اور کسی دوسرے دشمن کے مسلط ہونے کی وجہ سے ہلاک نہ ہوگی، اگرچہ دشمن تمام اطراف سے ان پر جمع ہو جائیں یہاں تک کہ یہ ایک دوسرے کو ہلاک کریں گے اور قیدی بنائیں گے اور ایک دوسرے کے ساتھ لڑائی کریں گے اور میری امت کے قبیلے شرک اور بتوں کی عبادت میں واپس چلے جائیں گے اور مجھے سب سے زیادہ گمراہ اماموں کا خوف ہے اور جب ان میں لڑائی شروع ہوگی تو قیامت تک ختم نہ ہوگی اور عنقریب میری امت میں تیس کے قریب دجال کذاب کا ظہور ہوگا اور میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا اور میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر رہے گا، یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ جائے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18617
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم»