حدیث نمبر: 18591
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَّامٍ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ فَرَجِ بْنِ فَضَالَةَ، عَنْ عَبْدِ الْخَبِيرِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهَا أُمُّ خَلَّادٍ وَهِيَ مُتَنَقِّبَةٌ تَسْأَلُ عَنِ ابْنٍ لَهَا وَهُوَ مَقْتُولٌ، فَقَالَ لَهَا بَعْضُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: جِئْتِ تَسْأَلِينَ عَنِ ابْنِكِ وَأَنْتِ مُنْتَقِِبَةٌ؟ فَقَالَتْ: إِنْ أُرْزَأِ ابْنِي فَلَنْ أُرْزَأَ حَيَائِي. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ابْنُكِ لَهُ أَجْرُ شَهِيدَيْنِ ". قَالَتْ: وَلِمَ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " لِأَنَّهُ قَتَلَهُ أَهْلُ الْكِتَابِ ".
حافظ ثناء اللہ

عبد الخبیر بن ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک عورت جس کو ام خلاد رضی اللہ عنہا کہا جاتا تھا، وہ پردہ کی حالت میں نبی ﷺ کے پاس آئی اور وہ اپنے شہید بیٹے کے بارے میں پوچھ رہی تھی۔ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: ”باپردہ ہو کر نبی ﷺ سے اپنے بیٹے کے بارے میں پوچھ رہی ہے؟“ اس عورت نے کہا: ”میرا بیٹا قتل ہوا۔ میری حیا تو ختم نہ ہوئی؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے بیٹے کو دو شہیدوں کا اجر ملے گا۔“ اس عورت نے کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ کیوں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیونکہ اس کو اہل کتاب نے قتل کیا ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18591
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»