السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: ما جاء في إعطاء البشراء باب: خوشخبری لانے والوں کو انعام دینے کے متعلق کیا مروی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ كَعْبٍ قَائِدَ كَعْبٍ حِينَ عَمِيَ مِنْ بَنِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ حَدِيثَهُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ فِي تَوْبَتِهِ وَإِيذَانِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَوْبَةِ اللهِ عَلَيْهِ وَعَلَى صَاحِبَيْهِ قَالَ: " سَمِعْتُ صَوْتَ صَارِخٍ أَوْفَى عَلَى جَبَلِ سَلْعٍ: يَا كَعْبُ بْنَ مَالِكٍ أَبْشِرْ، قَالَ: فَخَرَرْتُ سَاجِدًا وَعَرَفْتُ أَنَّهُ قَدْ جَاءَ الْفَرَجُ، فَلَمَّا جَاءَنِي الَّذِي سَمِعْتُ صَوْتَهُ يُبَشِّرُنِي نَزَعْتُ ثَوْبِيَّ فَكَسَوْتُهُمَا إِيَّاهُ بِبُشْرَاهُ، وَوَاللهِ مَا أَمْلِكُ غَيْرَهُمَا يَوْمَئِذٍ، وَاسْتَعَرْتُ ثَوْبَيْنِ فَلَبِسْتُهُمَا وَانْطَلَقْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ.عبدالرحمن بن عبداللہ بن کعب بن مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن کعب رحمہ اللہ اپنے والد کو نابینا ہونے کے بعد لائے۔ وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے غزوہ تبوک سے پیچھے رہنے اور ان کی توبہ کا قصہ سنا جب رسول اللہ ﷺ نے انہیں اور ان کے دو ساتھیوں کو توبہ کی قبولیت کی خبر دی۔ کہتے ہیں: میں نے سلع پہاڑ پر بلند آواز سے پکارنے والے کو سنا جو کہہ رہا تھا: اے کعب بن مالک! خوش ہو جاؤ۔ کہتے ہیں: میں سجدہ میں گر پڑا اور جان گیا کہ خوشحالی کے دن آ گئے۔ جب آواز دینے والا میرے قریب آیا، وہ مجھے خوشخبری دے رہا تھا تو میں نے اپنے کپڑے اتار کر اسے دے دیے کیونکہ اس کے علاوہ میں اس دن کسی اور چیز کا مالک نہ تھا اور دو کپڑے ادھار لے کر زیب تن کیے۔ پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس جا پہنچا۔