السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: تمني الشهادة ومسألتها باب: شہادت کی تمنا کرنے اور اللہ سے اسے مانگنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ يَخَامِرَ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَدَّثَهُمْ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللهِ مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ فُوَاقَ نَاقَةٍ فَقَدْ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ، وَمَنْ سَأَلَ اللهَ الْقَتْلَ مِنْ عِنْدِ نَفْسِهِ صَادِقًا ثُمَّ مَاتَ أَوْ قُتِلَ فَلَهُ أَجْرُ شَهِيدٍ، وَمَنْ جُرِحَ جُرْحًا فِي سَبِيلِ اللهِ أَوْ نُكِبَ نَكْبَةً فَإِنَّهَا تَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَغْزَرِ مَا كَانَتْ، لَوْنُهَا كَالزَّعْفَرَانِ وَرِيحُهَا كَالْمِسْكِ، وَمَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِ اللهِ فَعَلَيْهِ طَابَعُ الشُّهَدَاءِ "..سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس مسلم آدمی نے اللہ کے راستے میں اونٹنی کے دودھ دوہنے کے وقت کے برابر جہاد کیا، جنت اس کے لیے واجب ہوگئی، اور جس شخص نے اللہ تعالیٰ سے صدقِ دل سے شہادت کی تمنا کی، پھر وہ فوت ہوگیا یا اللہ کے راستے میں شہید کیا گیا تو اسے شہادت کا اجر ملے گا، اور جو شخص اللہ کے راستے میں زخمی کیا گیا یا اس کو کوئی مصیبت لاحق ہوئی تو وہ جب قیامت کے دن آئے گا تو (اجر) کے لیے وہ دنیا سے بہت زیادہ ہوگی، اس کی رنگت زعفران کی مانند اور خوشبو کستوری جیسی ہوگی، اور جو اللہ کے راستے میں زخمی کیا گیا اس پر شہداء کی مہر ہوگی۔“