السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: تمني الشهادة ومسألتها باب: شہادت کی تمنا کرنے اور اللہ سے اسے مانگنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 18554
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْلَا أَنَّ رِجَالًا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ لَا تَطِيبُ أَنْفُسُهُمْ أَنْ يَتَخَلَّفُوا عَنِّي وَلَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُهُمْ عَلَيْهِ مَا تَخَلَّفْتُ عَنْ سَرِيَّةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللهِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ أَنْ أُقْتَلَ فِي سَبِيلِ اللهِ ثُمَّ أُحْيَا، ثُمَّ أُقْتَلُ ثُمَّ أُحْيَا، ثُمَّ أُقْتَلُ ثُمَّ أُحْيَا، ثُمَّ أُقْتَلُ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر مجھے یہ خیال نہ ہوتا کہ کچھ مسلمان ایسے ہیں جو مجھ سے پیچھے رہنا پسند نہیں کرتے، لیکن میں ان کے لیے سواریوں کا انتظام نہیں کر پاتا، تو میں اللہ کے راستے میں نکلے ہوئے کسی بھی لشکر سے پیچھے نہ رہتا۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! مجھے یہ بات پسند ہے کہ میں اللہ کے راستے میں قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں۔“