السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: فضل الشهادة في سبيل الله عز وجل باب: اللہ عزوجل کی راہ میں شہادت پانے کی فضیلت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا حَجَّاجٌ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَلِيٍّ الْأَزْدِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ حُبْشِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ: أِيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " إِيمَانٌ لَا شَكَّ فِيهِ، وَجِهَادٌ لَا غُلُولَ فِيهِ، وَحَجَّةٌ مَبْرُورَةٌ ". قِيلَ: أِيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " طُولُ الْقِيَامِ ". قِيلَ: فَأِيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " جَهْدٌ مِنْ مُقِلٍّ ". قِيلَ: فَأِيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " مَنْ هَجَرَ مَا حُرِّمَ عَلَيْهِ ". قِيلَ: فَأِيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " مَنْ جَاهَدَ الْمُشْرِكِينَ بِمَالِهِ وَنَفْسِهِ ". قِيلَ: فَأِيُّ الْقَتْلِ أَشْرَفُ؟ قَالَ: " مَنْ أُهَرِيقَ دَمُهُ وَعُقِرَ جَوَادُهُ ".سیدنا عبداللہ بن حبشی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ سے افضل اعمال کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایسا ایمان جس میں شک نہ ہو، جہاد جس میں خیانت نہ ہو اور مقبول حج۔“ عرض کیا گیا: کون سی نماز افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”لمبے قیام والی۔“ عرض کیا گیا: کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کم مال سے خرچ کرنا۔“ عرض کیا گیا: کون سی ہجرت افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس میں اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو چھوڑ دیا جائے۔“ عرض کیا گیا: کون سا جہاد افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے مشرکین سے اپنے مال اور جان کے ساتھ جہاد کیا۔“ عرض کیا گیا: کون سا قتل افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس میں (مجاہد کا) خون بہا دیا جائے اور اس کا گھوڑا بھی مار دیا جائے۔“