حدیث نمبر: 18518
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو مُوسَى، أنبا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثنا الْأَعْمَشُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبا جَرِيرٌ، وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ أَرْوَاحِ الشُّهَدَاءِ، قَالَ: قَدْ سَأَلْنَا عَنْ ذَلِكَ، أَرْوَاحُهُمْ كَطَيْرٍ خُضْرٍ لَهَا قَنَادِيلُ مُعَلَّقَةٌ فِي الْعَرْشِ، تَسْرَحُ حَيْثُ شَاءَتْ ثُمَّ تَأْوِي إِلَى قَنَادِيلِهَا، فَبَيْنَمَا هُمْ عَلَى ذَلِكَ إِذِ اطَّلَعَ عَلَيْهِمْ رَبُّكَ اطِّلَاعَةً فَيَقُولُ: مَا تَشْتَهُونَ؟ فَيَقُولُونَ: وَمَا نَشْتَهِي وَنَحْنُ فِي الْجَنَّةِ نَسْرَحُ حَيْثُ شِئْنَا، فَإِذَا رَأَوْا أَنْ لَا بُدَّ مِنْ أَنْ يَسْأَلُوا، قَالُوا: تُرَدُّ أَرْوَاحُنَا فِي أَجْسَادِنَا فَنُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللهِ فَنُقْتَلُ مَرَّةً أُخْرَى، فَإِذَا رَأَى أَنْ لَا يَسْأَلُوهُ ⦗٢٧٥⦘ شَيْئًا تَرَكَهُمْ. لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ، وَفِي رِوَايَةِ الْمُقْرِئِ قَالَ: سَأَلْنَا عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ: {وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ فَرِحِينَ} [آل عمران: ١٧٠] قَالَ: أَمَا إِنَّا قَدْ سَأَلْنَا عَنْ ذَلِكَ، ثُمَّ ذَكَرَ مَعْنَاهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، وَعَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ..
حافظ ثناء اللہ

مسروق حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ان سے شہداء کی روحوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: ہم نے بھی ان کے بارے میں نبی کریم ﷺ سے استفسار کیا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا تھا: ”ان شہداء کی ارواح سبز پرندوں کے پیٹوں میں ہیں۔ ان کے لیے عرش کے نیچے فانوس معلق ہیں، وہ جہاں چاہتے ہیں اڑتے پھرتے ہیں۔ پھر ان فانوسوں میں رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کی طرف متوجہ ہو کر پوچھتا ہے کہ تمہیں کچھ چاہیے؟ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں کیا چاہیے جب کہ ہم جنت میں جہاں چاہتے ہیں اڑتے پھرتے ہیں اور جب انہوں نے محسوس کیا کہ ان سے پوچھا جاتا رہے گا۔ تب انہوں نے عرض کیا: اے پروردگار! ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہماری ارواح کو ہمارے جسموں میں داخل فرمائیں تاکہ ایک مرتبہ پھر تیرے راستے میں کٹ مریں۔ جب اللہ تعالیٰ نے دیکھا کہ انہیں ضرورت نہیں تو ان کو ویسے چھوڑ دیا جائے گا۔“ (ب)۔ مقری کی روایت میں ہے کہ ہم نے اس آیت کے بارے میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ * فَرِحِينَ﴾ [سورة آل عمران: 169-170] جو لوگ اللہ کے راہ میں مارے گئے ہیں، انہیں مردہ نہ سمجھو بلکہ وہ اللہ کے ہاں زندہ ہیں اور انہیں رزق مل رہا ہے۔ کہتے ہیں: ہم نے اس کے بارے میں نبی کریم ﷺ سے بھی پوچھا تھا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18518
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»