السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: فضل المشي في سبيل الله باب: اللہ کی راہ میں پیدل چلنے کی فضیلت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، ثنا عُتْبَةُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، عَنْ حَرْمَلَةَ، عَنْ أَبِي الْمُصَبِّحِ الْحِمْصِيِّ، قَالَ: كُنَّا نَسِيرُ فِي صَائِفَةٍ وَعَلَى النَّاسِ مَالِكُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْخَثْعَمِيُّ، فَأَتَى عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ يَمْشِي يَقُودُ بَغْلًا لَهُ فَقَالَ: أَلَا تَرْكَبُ وَقَدْ حَمَلَكَ اللهُ؟ فَقَالَ جَابِرٌ: رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنِ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي سَبِيلِ اللهِ حَرَّمَهُمَا اللهُ عَلَى النَّارِ " أَصْلِحْ لِي دَابَّتِي وَأَسْتَغْنِي عَنْ قَوْمِي، فَوَثَبَ النَّاسُ عَنْ دَوَابِّهِمْ، فَمَا رَأَيْتُ نَازِلًا أَكْثَرَ مِنْ يَوْمَئِذٍ.ابومصبح حمصی فرماتے ہیں کہ ہم ایک جماعت کی شکل میں چل رہے تھے، جن کے امیر مالک بن عبداللہ تھے۔ ان کا گزر حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس سے ہوا جو اپنے خچر کو ساتھ لیے پیدل چل رہے تھے، تو مالک بن عبداللہ نے کہا: آپ سوار کیوں نہیں ہوتے حالانکہ اللہ نے آپ کو سواری عطا کی ہے؟ تو جابر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو قدم اللہ کے راستے میں خاک آلود ہو گئے، ان پر اللہ جہنم کی آگ کو حرام کر دیتا ہے“۔ میری سواری تندرست ہے اور میں اپنی قوم سے بے پروا ہوں، تو لوگ اپنی سواریوں سے اتر پڑے۔ میں نے اس دن سے زیادہ پیدل چلتے ہوئے لوگ نہیں دیکھے۔