السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: فضل من رمى بسهم في سبيل الله عز وجل باب: اللہ عزوجل کی راہ میں ایک تیر چلانے والے کی فضیلت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْغَضَائِرِيُّ بِبَغْدَادَ قَالَا: أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْمُنَادِي، ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا شَيْبَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، ثنا سَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي نَجِيحٍ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَصْرَ الطَّائِفِ فَسَمِعْتُ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فَبَلَغَ فَلَهُ دَرَجَةٌ فِي الْجَنَّةِ ". فَقَالَ رَجُلٌ: يَا نَبِيَّ اللهِ إِنْ رَمَيْتُ بِسَهْمٍ فَلِي دَرَجَةٌ فِي الْجَنَّةِ؟ قَالَ: " نَعَمْ ". فَرَمَى فَبَلَغَ. قَالَ: وَبَلَغْتُ يَوْمَئِذٍ سِتَّةَ عَشَرَ سَهْمًا. قَالَ: وَسَمِعْتُ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي سَبِيلِ اللهِ كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ رَمَى بِسَهْمٍ كَانَ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَأَيُّمَا رَجُلٍ أَعْتَقَ رَجُلًا مُسْلِمًا فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ جَاعِلٌ وِقَاءَ كُلِّ عَظْمٍ مِنْ عِظَامِهِ مِنَ النَّارِ، وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ مُسْلِمَةٍ أَعْتَقَتِ امْرَأَةً مُسْلِمَةً فَإِنَّ اللهَ جَاعِلٌ وِقَاءَ كُلِّ عَظْمٍ مِنْ عِظَامِهَا عَظْمًا مِنْ عِظَامِ مُحَرَّرِهَا مِنَ النَّارِ ". وَرَوَاهُ أَيْضًا أَسَدُ بْنُ وَدَاعَةَ عَنْ أَبِي نَجِيحٍ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ.ابونجیح سلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ طائف کے محل میں موجود تھا۔ میں نے نبی ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”جس نے صحیح نشانے پر تیر مارا اس کے لیے جنت میں ایک درجہ ہوگا۔“ ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے نبی ﷺ! اگر میں تیر نشانے پر ماروں تو میرے لیے بھی جنت میں درجہ ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ تو اس نے تقریباً سولہ تیر نشانے پر مارے۔ کہتے ہیں: میں نے نبی ﷺ سے سنا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس کو اللہ کے راستے میں بڑھاپا آگیا، وہ اس کے لیے قیامت کے دن نور کا باعث ہوگا۔ جس نے اللہ کے راستے میں تیر پھینکا، یہ بھی اس کے لیے قیامت کے دن روشنی کا باعث بنے گا اور جس انسان نے کسی مسلمان مرد کو آزاد کیا تو اللہ رب العزت اس کی ہڈیوں کے عوض اس کے تمام جسم کو جہنم کی آگ سے محفوظ کر دے گا اور جس مسلمان عورت نے کسی مسلمان عورت کو آزاد کیا تو اللہ رب العزت آزاد کرنے والی عورت کو اس کے بدلے جہنم سے آزاد کر دیں گے۔“