السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: ما يستحب من الجيوش والسرايا باب: لشکروں اور فوجی دستوں کے حوالے سے مستحب امور کا بیان۔
حدیث نمبر: 18482
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، وَأَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ، عَنْ حُيِيِّ بْنِ مِخْمَرٍ الْوَصَّابِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللهِ، مِنْ أَهْلِ دِمَشْقَ عَنْ أَكْثَمَ بْنِ الْجَوْنِ الْخُزَاعِيِّ ثُمَّ الْكَعْبِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَكْثَمُ بْنَ الْجَوْنِ اغْزُ مَعَ غَيْرِ قَوْمِكَ يَحْسُنْ خُلُقُكَ وَتُكْرَمْ عَلَى رُفَقَائِكَ، يَا أَكْثَمُ بْنَ الْجَوْنِ خَيْرُ الرُّفَقَاءِ أَرْبَعَةٌ، وَخَيْرُ الطَّلَائِعِ أَرْبَعُونَ، ⦗٢٦٤⦘ وَخَيْرُ السَّرَايَا أَرْبَعُمِائَةٍ، وَخَيْرُ الْجُيُوشِ أَرْبَعَةُ الَآفٍ، وَلَنْ يُؤْتَى اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا مِنْ قِلَّةٍ، يَا أَكْثَمُ بْنَ الْجَوْنِ لَا تُرَافِقِ الْمِائَتَيْنِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا اکثم بن جون خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے اکثم بن جون! اپنی قوم کے علاوہ کسی اور کے ساتھ غزوہ کرو، آپ کا اخلاق اچھا ہوگا اور اپنے ساتھیوں کی عزت کرو۔ اے اکثم بن جون! بہترین ساتھی چار ہیں، اور بہتر ہراول دستہ چالیس افراد کا ہے، اور بہتر سریہ چار سو اشخاص کا ہے، اور بہترین لشکر چار ہزار کا ہے، اور بارہ ہزار کا لشکر قلت کی وجہ سے شکست نہیں دیا جائے گا۔ اے اکثم بن جون! تو دو سو افراد کا ساتھی نہ بن۔“