حدیث نمبر: 18471
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ الْيَمَاميُّ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ وَفِيهِ حِينَ أَغَارُوا عَلَى سَرْحِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ثُمَّ قُمْتُ عَلَى ثَنِيَّةٍ فَاسْتَقْبَلْتُ الْمَدِينَةَ فَنَادَيْتُ ثَلَاثَةَ أَصْوَاتٍ: يَا صَبَاحَاهُ، ثُمَّ خَرَجْتُ فِي آثَارِ الْقَوْمِ أَرْمِيهِمْ بِالنَّبْلِ وَأَرْتَجِزُ:.
حافظ ثناء اللہ

ایاس بن سلمہ اپنے والد (سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ کیا۔ انہوں نے لمبی حدیث ذکر کی، جس میں ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے مویشیوں پر حملہ کیا۔ راوی کہتے ہیں: پھر میں ثنیہ پہاڑی پر چڑھ گیا اور مدینہ کی جانب متوجہ ہو کر تین آوازیں لگائیں، پھر لوگوں کے پیچھے تیر پھینکتا اور رجزیہ اشعار پڑھتا ہوا نکلا: میں اکوع کا بیٹا ہوں، آج کمینوں کی ہلاکت کا دن ہے۔
اس میں ہے کہ جب ہم خیبر گئے تو میرے چچا عامر رضی اللہ عنہ یہ کہہ رہے تھے: «تَاللَّهِ لَوْلَا اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا، وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا، وَنَحْنُ عَنْ فَضْلِكَ مَا اسْتَغْنَيْنَا، فَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا، وَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا» ”اللہ کی قسم! اگر اللہ نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے، صدقہ نہ کرتے، نمازیں نہ پڑھتے اور ہم تیرے فضل سے ہی غنی ہیں، اگر دشمن سے ملاقات ہو جائے تو ہمیں ثابت قدم رکھنا اور ہمارے اوپر سکون نازل فرمانا“۔
نبی ﷺ نے پوچھا: ”یہ کون ہے؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے جواب دیا: عامر ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: «غَفَرَ لَكَ رَبُّكَ» ”تیرا رب تجھے معاف فرمائے“۔ اس میں ہے کہ جب خیبر گئے تو مرحب اپنی تلوار کو لہراتے ہوئے آیا اور اس نے کہا: «قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي مَرْحَبُ، شَاكِي السِّلَاحِ بَطَلٌ مُجَرَّبُ، إِذَا الْحُرُوبُ أَقْبَلَتْ تَلَهَّبُ» ”خیبر جانتا ہے میں مرحب ہوں، اسلحے کا ماہر، بہادر تجربہ کار، جس وقت لڑائیوں کی آگ بھڑک اٹھتی ہے“۔
تو میرے چچا نے اس کا جواب دیا: «قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي عَامِرُ، شَاكِي السِّلَاحِ بَطَلٌ مُغَامِرُ» ”کہ خیبر جانتا ہے کہ میں عامر ہوں، اسلحہ کا ماہر اور بہادر“۔
پھر انہوں نے حدیث میں ذکر کیا ہے کہ انہوں نے اپنی تلوار میان میں داخل کر لی اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے تلوار کو میان سے نکالا اور اشعار پڑھے اور اسے قتل کر دیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18471
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»