حدیث نمبر: 18464
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ابْنُ أَبِي قُمَاشٍ يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ عِيسَى، أنبأ سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ عَائِشَةَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، كِلَاهُمَا عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ صُهَيْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَرِّكُ شَفَتَيْهِ بِشَيْءٍ لَا يُفْهَمُ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّكَ تُحَرِّكُ شَفَتَيْكَ بِشَيْءٍ لَا يُفْهَمُ، فَقَالَ: " إِنَّ نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ أَعْجَبَهُ كَثْرَةُ قَوْمِهِ، فَقَالَ: مَنْ يَفِي لِهَؤُلَاءِ أَوْ مَنْ يَقُومُ لِهَؤُلَاءِ؟ قَالَ: فَقِيلَ لَهُ خَيِّرْ أَصْحَابَكَ بَيْنَ أَنْ نُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا فَيَسْتَبِيحَ بَيْضَتَهُمْ أَوِ الْجُوعَ أَوِ الْمَوْتَ فَخَيَّرَهُمْ فَاخْتَارُوا الْمَوْتَ، قَالَ: فَمَاتَ مِنْهُمْ فِي ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ سَبْعُونَ أَلْفًا. قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَأَنَا أَقُولُ: اللهُمَّ بِكَ أُقَاتِلُ، وَبِكَ أُحَاوِلُ، وَبِكَ أُصَاوِلُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِكَ " وَسَائِرُ مَا وَرَدَ مِنَ الدُّعَاءِ فِي هَذَا قَدْ مَضَى فِي كِتَابِ الْحَجِّ وَفِي كِتَابِ الدَّعَوَاتِ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے ہونٹوں کو حرکت دیتے تھے لیکن ہم اس کو سمجھ نہ پاتے۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ ہونٹوں کو کسی چیز سے حرکت دیتے ہیں لیکن ہم سمجھ نہیں پاتے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کسی نبی ﷺ کو اپنی قوم کی کثرت اچھی لگی، اس نے کہا کہ کون ان کے مقابلے میں کھڑا ہوگا؟ فرماتے ہیں کہ اس سے کہا گیا: اپنے ساتھیوں کا انتخاب کر لو۔ ہم ان پر دشمن کو مسلط کرتے ہیں۔ وہ اپنے لیے خود، بھوک یا موت کو پسند کر لیں۔ ان کو اختیار ملا تو انہوں نے موت کو پسند کیا تو تین ایام کے اندر ستر ہزار آدمی مارے گئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں تو یہ کہتا ہوں: «اللَّهُمَّ بِكَ أُقَاتِلُ، وَبِكَ أُحَاوِلُ، وَبِكَ أُصَاوِلُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» ”اے اللہ! تیری مدد سے میں قتال کرتا ہوں اور تیری توفیق سے معاملات کی تدبیر کرتا ہوں اور تیری توفیق سے مقابلہ کرتا ہوں اور برائی سے پھرنے اور نیکی کرنے کی قوت تیری توفیق سے ہے۔“““

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18464
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»