السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: ما يؤمر به من انضمام العسكر باب: لشکر کو باہم مل جل کر اور اکٹھے رہنے کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 18458
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْخَثْعَمِيِّ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ مُجَاهِدٍ اللَّخْمِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ كَذَا وَكَذَا فَضَيَّقَ النَّاسُ الْمَنَازِلَ وَقَطَعُوا الطَّرِيقَ، فَبَعَثَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنَادِيًا يُنَادِي فِي النَّاسِ أَنَّ مَنْ ضَيَّقَ مَنْزِلًا أَوْ قَطَعَ طَرِيقًا فَلَا جِهَادَ لَهُ..حافظ ثناء اللہ
سیدنا سہل بن معاذ جہنی رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا معاذ بن انس رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کے ساتھ مل کر فلاں فلاں غزوہ کیا۔ لوگوں نے جگہ تنگ کر دی اور راستہ بند کر دیا تو اللہ کے نبی ﷺ نے لوگوں میں اعلان کروایا: ”جس نے جگہ کو تنگ کیا یا راستہ بند کیا اس کا کوئی جہاد نہیں ہے۔“