السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: من أراد غزوة فورى بغيرها باب: اس شخص کا بیان جس نے کسی غزوے کا ارادہ کیا لیکن بات کو کسی دوسری سمت پھیر کر اسے پوشیدہ رکھا (توریہ کیا)۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، قَالَ: سَمِعْتُ ثَابِتًا الْبُنَانِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا افْتَتَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ قَالَ الْحَجَّاجُ بْنُ عِلَاطٍ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ لِي بِمَكَّةَ مَالًا، وَإِنَّ لِي بِهَا أَهْلًا، وَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ آتِيَهُمْ فَأَنَا فِي حِلٍّ إِنْ أَنَا نِلْتُ مِنْكَ شَيْئًا. فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقُولَ مَا شَاءَ قَالَ: فَأَتَى امْرَأَتَهُ حِينَ قَدِمَ فَقَالَ: اجْمَعِي لِي مَا كَانَ عِنْدَكِ فَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَشْتَرِيَ مِنْ غَنَائِمِ مُحَمَّدٍ وَأَصْحَابِهِ فَإِنَّهُمْ قَدِ اسْتُبِيحُوا وَأُصِيبَتْ أَمْوَالُهُمْ. قَالَ: وَفَشَا ذَلِكَ بِمَكَّةَ فَانْقَمَعَ الْمُسْلِمُونَ، وَأَظْهَرَ الْمُشْرِكُونَ فَرَحًا وَسُرُورًا، وَبَلَغَ الْخَبَرُ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَعَقِرَ وَجَعَلَ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَقُومَ. قَالَ مَعْمَرٌ: فَأَخْبَرَنِي عُثْمَانُ الْجَزَرِيُّ عَنْ مِقْسَمٍ قَالَ: فَأَخَذَ الْعَبَّاسُ ابْنًا لَهُ يُقَالُ لَهُ قُثَمُ، وَاسْتَلْقَى فَوَضَعَهُ عَلَى صَدْرِهِ وَهُوَ يَقُولُ:.سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے خیبر کو فتح کیا تو حجاج بن علاط رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! مکہ میں میرا مال اور اہل و عیال ہیں اور میں ان کے پاس جانے کا ارادہ رکھتا ہوں، اگر میں (ان سے اپنا مال نکالنے کے لیے) آپ کے متعلق (خلافِ حقیقت) کوئی بات کہوں تو کیا مجھے اس کی اجازت ہے؟ آپ ﷺ نے انہیں اجازت عطا فرما دی کہ وہ جو چاہیں کہہ لیں۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ (مکہ پہنچ کر) اپنی بیوی کے پاس آئے اور کہا: میرے لیے اپنا تمام مال جمع کر دو، کیونکہ میں محمد (ﷺ) اور ان کے ساتھیوں کے مالِ غنیمت کو خریدنا چاہتا ہوں، بیشک ان کے مالوں کو (بکری کے لیے) پیش کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بات مکہ میں عام کر دی۔ مسلمان (یہ سن کر غم کے مارے) چھپ گئے اور مشرکوں نے خوشی کا اظہار کیا۔ یہ خبر سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کو پہنچی جو (صدمے کی وجہ سے) اٹھنے کی طاقت نہیں رکھتے تھے۔
مقسم بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے بیٹے کو لیا جنہیں قثم کہا جاتا تھا اور انہیں لٹا کر ان کے سینے پر ہاتھ رکھ دیا (اور یہ اشعار پڑھے): میرا محبوب قثم معزز اور بڑے آدمی کی طرح ہے، میرا نبی نعمتوں والا ہے، جو اس کو رسوا کرنا چاہے وہ خود رسوا ہوتا ہے۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے اپنے غلام کو حجاج بن علاط رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا کہ تو کیسی خبر لایا ہے اور تو کیا کہتا ہے؟ کیا اللہ کا وعدہ اس سے بہتر نہیں ہے جو خبر تو لے کر آیا ہے؟ راوی کہتے ہیں کہ حجاج بن علاط رضی اللہ عنہ نے اس غلام سے کہا کہ ابوالفضل (سیدنا عباس رضی اللہ عنہ) کو میرا سلام کہنا اور ان سے کہنا کہ گھر کا کوئی حصہ تنہائی کے لیے خالی رکھیں، میں ان کے پاس ایسی خبر لے کر آتا ہوں جو انہیں خوش کر دے گی۔ غلام آیا، جب وہ گھر کے دروازے پر پہنچا تو اس نے کہا: اے ابوالفضل! خوش ہو جائیے۔ راوی کہتے ہیں کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ (خوشی سے) اچھل پڑے یہاں تک کہ اس غلام کی پیشانی کا بوسہ لیا، تو اس نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو وہ خبر دی جو حجاج رضی اللہ عنہ نے کہی تھی۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے اس خوشی میں غلام کو آزاد کر دیا۔ پھر حجاج رضی اللہ عنہ (خود بھی) آگئے۔ انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر فتح کر لیا ہے، ان کے مال بطورِ غنیمت حاصل کیے ہیں اور ان کے مالوں میں اللہ کے (مقرر کردہ) حصے جاری ہو گئے ہیں اور سیدہ صفیہ بنت حیئی رضی اللہ عنہا کا رسول اللہ ﷺ نے اپنے لیے انتخاب کیا ہے اور انہیں اختیار دیا کہ آزادی کے بعد آپ ﷺ کی زوجہ بن جائیں یا اپنے گھر والوں کے پاس واپس چلی جائیں، تو انہوں نے آزادی کے بعد زوجہ بننا پسند کیا ہے۔ (حجاج رضی اللہ عنہ نے کہا:) میں تو اپنا مال لینے آیا ہوں، میرا ارادہ تھا کہ میں اسے جمع کر کے لے جاؤں، میں نے تو رسول اللہ ﷺ سے (مشرکین کو دھوکا دینے کے لیے) کچھ کہنے کی اجازت مانگی تھی، میری اس بات کو تین دن تک پوشیدہ رکھنا، پھر اس کا تذکرہ کرنا۔ چنانچہ ان کی بیوی نے زیور اور سامان جمع کر کے انہیں دے دیا۔ تین دن گزرنے کے بعد سیدنا عباس رضی اللہ عنہ، حجاج رضی اللہ عنہ کی بیوی کے پاس آئے اور پوچھا: تیرے شوہر نے کیا کیا ہے؟ اس نے خبر دی کہ وہ فلاں فلاں دن چلے گئے ہیں اور کہنے لگی: اے ابوالفضل! اللہ آپ کو غمگین نہ کرے، ہمارے اوپر بھی وہ خبر بہت شاق گزری جو آپ کو ملی تھی۔ انہوں نے کہا: اللہ نے مجھے غم نہیں دیا بلکہ وہی ہوا جو ہم چاہتے تھے، اللہ رب العزت نے رسول اللہ ﷺ کو خیبر میں فتح عطا فرمائی اور اس میں اللہ کے حصے جاری ہوئے اور رسول اللہ ﷺ نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا اپنے لیے انتخاب فرمایا۔ اگر تجھے اپنے شوہر کی ضرورت ہے تو ان سے جا ملو۔ وہ کہنے لگی: میرا گمان آپ کے بارے میں یہی ہے کہ اللہ کی قسم! آپ سچے ہیں۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں سچا ہوں اور معاملہ اسی طرح ہے جیسے میں نے تجھے خبر دی ہے۔ پھر وہ قریش کی مجلس کے پاس آئے، وہ (مذاقاً) کہہ رہے تھے کہ اے ابوالفضل! آپ کو بھلائی پہنچی ہے۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی توفیق سے مجھے بھلائی ہی ملی ہے کہ حجاج بن علاط رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا تھا کہ اللہ نے خیبر کو فتح کر دیا ہے اور وہاں اللہ کے حصے جاری ہو گئے ہیں اور رسول اللہ ﷺ نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا انتخاب اپنے لیے فرمایا ہے۔ انہوں نے مجھ سے تین دن تک بات کو پوشیدہ رکھنے کی درخواست کی تھی، وہ تو صرف یہاں اپنا موجود مال لینے کے لیے آئے تھے جو لے کر چلے گئے ہیں۔ اللہ رب العزت نے مسلمانوں کا غم دور کر دیا۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ مسلمان جو غم کے مارے اپنے گھروں میں دبک گئے تھے، وہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے انہیں (حقیقت) بتائی اور مسلمان خوش ہو گئے۔ اللہ رب العزت نے ان کا غصہ اور غم ختم کر دیا۔