السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: من أراد غزوة فورى بغيرها باب: اس شخص کا بیان جس نے کسی غزوے کا ارادہ کیا لیکن بات کو کسی دوسری سمت پھیر کر اسے پوشیدہ رکھا (توریہ کیا)۔
حدیث نمبر: 18451
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا ابْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ غَزْوَةً وَرَّى بِغَيْرِهَا وَكَانَ يَقُولُ: " الْحَرْبُ خَدْعَةٌ ".حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن کعب بن مالک رضی اللہ عنہما اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ جب غزوے کا ارادہ فرماتے تو توریہ کرتے اور فرماتے: ”لڑائی دھوکا ہے۔“