حدیث نمبر: 18445
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْجَنْبِيِّ، عَنْ أَبِي رَيْحَانَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ فَأَوْفَى بِنَا عَلَى شَرَفٍ فَأَصَابَنَا بَرْدٌ شَدِيدٌ، حَتَّى إِذَا كَانَ أَحَدُنَا يَحْفِرُ ⦗٢٥٢⦘ الْحَفِيرَ ثُمَّ يَدْخُلُ فِيهِ وَيُغَطِّي عَلَيْهِ بِحَجْفَتِهِ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ مِنَ النَّاسِ قَالَ: " أَلَا رَجُلٌ يَحْرُسُنَا اللَّيْلَةَ أَدْعُو اللهَ لَهُ بِدُعَاءٍ يُصِيبُ بِهِ فَضْلًا؟ " فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللهِ. فَدَعَا لَهُ، قَالَ أَبُو رَيْحَانَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: فَقُلْتُ: أَنَا، فَدَعَا لِي بِدُعَاءٍ هُوَ دُونَ مَا دَعَا بِهِ لِلْأَنْصَارِيِّ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حُرِّمَتِ النَّارُ عَلَى عَيْنٍ دَمَعَتْ مِنْ خَشْيَةِ اللهِ، حُرِّمَتِ النَّارُ عَلَى عَيْنٍ سَهِرَتْ فِي سَبِيلِ اللهِ ". قَالَ: وَنَسِيتُ الثَّالِثَةَ. قَالَ أَبُو شُرَيْح /٦٣ ٍ وَهُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شُرَيْحٍ: وَسَمِعْتُهُ بَعْدُ أَنَّهُ قَالَ: " حُرِّمَتِ النَّارُ عَلَى عَيْنٍ غَضَّتْ عَنْ مَحَارِمِ اللهِ أَوْ عَيْنٍ فُقِئَتْ فِي سَبِيلِ اللهِ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابوریحانہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک غزوہ میں نکلے، ایک چوٹی پر چڑھے تو ہمیں سخت سردی لگی، ہم گڑھے کھود کر ان کے اندر داخل ہو گئے اور سروں کو چمڑے کی ڈھال سے ڈھانپ لیا۔ جب رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کی یہ حالت دیکھی تو فرمایا: ”کوئی شخص ہے جو آج رات ہمارا پہرہ دے تو میں اللہ سے اس کے لیے دعا کروں گا، جس کی وجہ سے اس کو فضیلت نصیب ہو گی؟“ تو ایک انصاری آدمی کھڑا ہوا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں پہرہ دیتا ہوں۔ آپ ﷺ نے اس کے لیے دعا کی۔ سیدنا ابوریحانہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں بھی پہرہ دیتا ہوں، تو آپ ﷺ نے انصاری کی دعا کے علاوہ میرے لیے کوئی دوسری دعا دی۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس آنکھ سے اللہ کے ڈر کی وجہ سے آنسو بہہ گئے، اس پر جہنم حرام ہے اور ایسی آنکھ جو اللہ کے راستے میں پہرہ دیتے ہوئے بیدار رہتی ہے، اس پر بھی جہنم کی آگ حرام ہے۔“ راوی کہتے ہیں: میں تیسری چیز بھول گیا۔ ابوشریح رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ وہ عبدالرحمن بن شریح رحمہ اللہ کے پاس تھے، میں نے اس کے بعد ان سے سنا کہ ”وہ آنکھ جو اللہ کی حرام کردہ چیزوں سے محفوظ رہے، اس پر بھی جہنم کی آگ حرام ہے، یا جو آنکھ اللہ کے راستے میں پھوڑ دی جائے، اس پر بھی جہنم کی آگ حرام ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18445
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»