السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: الأسير يستطلع منه خبر المشركين باب: اس قیدی کا بیان جس سے مشرکین کی خبریں اور معلومات حاصل کی جائیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو ⦗٢٤٩⦘ عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَدَبَ أَصْحَابَهُ فَانْطَلَقَ إِلَى بَدْرٍ، فَإِذَا هُمْ بِرَوَايَا قُرَيْشٍ فِيهَا عَبْدٌ أَسْوَدُ لِبَنِي الْحَجَّاجِ، فَأَخَذَهُ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلُوا يَسْأَلُونَهُ أَيْنَ أَبُو سُفْيَانَ؟ فَيَقُولُ: وَاللهِ وَاللهِ مَا لِي بِشَيْءٍ مِنْ أَمْرِهِ عِلْمٌ وَلَكِنْ هَذِهِ قُرَيْشٌ قَدْ جَاءَتْ فِيهِمْ أَبُو جَهْلٍ، وَعُتْبَةُ وَشَيْبَةُ ابْنَا رَبِيعَةَ، وَأُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ، فَإِذَا قَالَ لَهُمْ ذَلِكَ ضَرَبُوهُ فَيَقُولُ: دَعُونِي دَعُونِي أُخْبِرْكُمْ، فَإِذَا تَرَكُوهُ قَالَ: وَاللهِ مَا لِي بِأَبِي سُفْيَانَ مِنْ عِلْمٍ وَلَكِنْ هَذِهِ قُرَيْشٌ قَدْ أَقْبَلَتْ، فِيهِمْ أَبُو جَهْلٍ، وَعُتْبَةُ وَشَيْبَةُ ابْنَا رَبِيعَةَ، وَأُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ قَدْ أَقْبَلُوا، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَهُوَ يَسْمَعُ ذَلِكَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّكُمْ لَتَضْرِبُونَهُ إِذَا صَدَقَكُمْ، وَتَدَعُونَهُ إِذَا كَذَبَكُمْ، هَذِهِ قُرَيْشٌ قَدْ أَقْبَلَتْ لِتَمْنَعَ أَبَا سُفْيَانَ ". قَالَ أَنَسٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ غَدًا "، وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى الْأَرْضِ، وَهَذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ غَدًا "، وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى الْأَرْضِ، وهَذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ غَدًا "، وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى الْأَرْضِ، فَقَالَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا جَاوَزَ أَحَدٌ مِنْهُمْ عَنْ مَوْضِعِ يَدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَ بِهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ بِأَرْجُلِهِمْ فَسُحِبُوا فَأُلْقُوا فِي قَلِيبِ بَدْرٍ. أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ حَمَّادٍ.سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ صحابہ کرام کو لے کر بدر کی جانب چلے، اچانک بنو حجاج کا ایک سیاہ غلام، جو قریش کے لیے پانی بھر رہا تھا، سامنے آیا، اسے صحابہ کرام نے پکڑ لیا اور اس سے پوچھنے لگے کہ ابوسفیان کہاں ہے؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے کوئی علم نہیں، لیکن یہ قریشی ہیں، جن میں ابوجہل، عتبہ، شیبہ اور امیہ بن خلف شامل ہیں، جب وہ یہ بات کہتا تو صحابہ اسے مارتے، وہ کہتا: مجھے چھوڑو، مجھے چھوڑو، میں تمہیں بتاتا ہوں، جب وہ اسے چھوڑ دیتے تو وہ (پھر) کہتا: اللہ کی قسم! مجھے ابوسفیان کے بارے میں کوئی علم نہیں، لیکن یہ قریشی آ رہے ہیں جن میں عتبہ، شیبہ اور امیہ بن خلف موجود ہیں، وہ اسے لے کر نبی ﷺ کے پاس آئے اور نبی ﷺ حالت نماز میں یہ باتیں سن رہے تھے، جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جب اس نے تم سے سچ بولا تو تم اسے مارنے لگے اور جب اس نے تم سے جھوٹ بولا تو تم نے اسے چھوڑ دیا، یہ قریش ہی آ رہے ہیں تاکہ وہ ابوسفیان کو تم سے بچا سکیں“، سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ فلاں کے گرنے کی جگہ ہے“ اور آپ ﷺ نے زمین پر ہاتھ رکھ کر فرمایا: ”یہ جگہ فلاں کی قتل گاہ ہے اور یہ فلاں کی قتل گاہ ہے“، اللہ کی قسم! ان میں سے کوئی ایک بھی رسول اللہ ﷺ کے (نشان زدہ) ہاتھ والی جگہ سے ذرہ برابر ادھر ادھر نہ ہوا، پھر آپ ﷺ نے ان کے بارے میں حکم دیا اور انہیں پاؤں سے پکڑ کر (گھسیٹا گیا اور) بدر کے ایک کنویں میں پھینک دیا گیا۔