السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: الوقت الذي يجوز فيه التفريق باب: اس وقت کا بیان جس میں (رشتہ داروں کے درمیان) جدائی ڈالنا جائز ہے۔
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: حِينَ يَبْلُغُ الْوَلَدُ سَبْعَ سِنِينَ أَوْ ثَمَانِ سِنِينَ، وَقَاسَ ذَلِكَ عَلَى وَقْتِ التَّخْيِيرِ بَيْنَ الْأَبَوَيْنِ، وَمَا رُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي ذَلِكَ، وَقَالَ فِي رِوَايَةِ حَرْمَلَةَ: حَتَّى يَبْلُغَ، قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ فِيهِ حَدِيثٌ ضَعِيفٌ..امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جب بچہ سات یا آٹھ سال کی عمر کو پہنچ جائے۔“ اور انہوں نے اسے والدین میں سے کسی ایک کو اختیار کرنے کے وقت پر قیاس کیا، اور اس (قول) پر جو اس بارے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔
اور حرملہ کی روایت میں انہوں نے فرمایا: ”یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے۔“
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور اس بارے میں ایک ضعیف حدیث بھی مروی ہے۔“...
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْخُرَاسَانِيُّ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَسَّانَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ التَّنُوخِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ مَكْحُولًا يَقُولُ: حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُفَرَّقَ بَيْنَ الْأُمِّ وَوَلَدِهَا، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِلَى مَتَى؟ قَالَ: " حَتَّى يَبْلُغَ الْغُلَامُ وَتَحِيضَ الْجَارِيَةُ "..سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ماں اور اس کے بچے کے درمیان تفریق سے منع فرمایا، کہا گیا: اے اللہ کے رسول! کب تک؟ فرمایا: ”جب تک بچہ بالغ ہو جائے اور بچی حیض والی ہو جائے۔“