السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: التفريق بين المرأة وولدها باب: (قیدی) عورت اور اس کی اولاد کے درمیان (خرید و فروخت کے ذریعے) جدائی ڈالنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ بْنِ أَعْيَنَ الْمِصْرِيُّ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، وَأَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ: عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ أَبَا أُسَيْدٍ الْأَنْصَارِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَدِمَ بِسَبْيٍ مِنَ الْبَحْرَيْنِ فَصُفُّوا، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَظَرَ إِلَيْهِمْ، فَإِذَا امْرَأَةٌ تَبْكِي، فَقَالَ: " مَا يُبْكِيكِ؟ " قَالَتْ: بِيعَ ابْنِي فِي عَبْسٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي أُسَيْدٍ: " لَتَرْكَبَنَّ فَلَتَجِيئَنَّ بِهِ كَمَا بِعْتَ بِالثَّمَنِ ". فَرَكِبَ أَبُو أُسَيْدٍ فَجَاءَ بِهِ. هَذَا وَإِنْ كَانَ فِيهِ إِرْسَالٌ فَهُوَ مُرْسَلٌ حَسَنٌ شَاهِدٌ لِمَا تَقَدَّمَ.جعفر بن محمد اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا ابو اسید انصاری رضی اللہ عنہ بحرین سے قیدی لے کر آئے تو ان کی صفیں بنائی گئیں۔ نبی کریم ﷺ نے کھڑے ہو کر ان کی جانب دیکھا تو ایک عورت رو رہی تھی۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”تجھے کس چیز نے رلایا ہے؟“ اس نے کہا: قبیلہ عبس میں میرے بیٹے کو فروخت کر دیا گیا، تو نبی کریم ﷺ نے سیدنا ابو اسید رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تم ضرور سوار ہو کر جاؤ اور اس کو لے کر آؤ، جتنی قیمت میں تم نے فروخت کیا ہے“ تو سیدنا ابو اسید رضی اللہ عنہ سوار ہو کر گئے اور اسے لے کر آئے۔
یہ روایت اگرچہ مرسل ہے، لیکن یہ حسن مرسل ہے جو پچھلی روایات کی تائید کرتی ہے۔