السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: ترك أخذ المشركين بما أصابوا باب: مشرکین نے (زمانہ کفر میں مسلمانوں کا) جو جانی و مالی نقصان کیا ہو اس پر ان کا مؤاخذہ ترک کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 18288
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرٍو الْمُقْرِئُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَا: ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي قِصَّةِ حَجِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي خُطْبَتِهِ: " أَلَا وَإِنَّ كُلَّ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعٌ تَحْتَ قَدَمِيَّ، وَدِمَاءُ الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعَةٌ، وَأَوَّلُ دَمٍ أَضَعُهُ مِنْ دِمَائِنَا دَمُ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَكَانَ مُرْتَضِعًا فِي بَنِي سَعْدٍ فَقَتَلَتْهُ هُذَيْلٌ. أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے حجۃ الوداع کا قصہ نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے خطبہ میں ارشاد فرمایا: ”خبردار! جاہلیت کی ہر چیز میرے قدموں تلے رکھ دی گئی ہے اور جاہلیت کے تمام خون معاف ہیں اور سب سے پہلا خون جو میں اپنے خونوں میں سے معاف کرتا ہوں، وہ ربیعہ بن حارث کا خون ہے، یعنی ابن عبدالمطلب کا۔ یہ بنو سعد میں دودھ پیتے تھے کہ ہذیل والوں نے انہیں قتل کر دیا تھا۔“