السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: ما أحرزه المشركون على المسلمين باب: مشرکین جو مال مسلمانوں سے چھین کر محفوظ کر لیں اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 18251
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنِ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ الْفَزَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَصَابَ الْمُشْرِكُونَ فَرَسًا لَهُمْ زَمَنَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، وَكَانُوا أَحْرَزُوهُ فَأَصَابَهُ مُسْلِمُونَ زَمَنَ سَعْدٍ، فَكَلَّمْنَاهُ فَرَدَّهُ عَلَيْنَا بَعْدَ مَا قُسِمَ وَصَارَ فِي خُمُسِ الْإِمَارَةِ.حافظ ثناء اللہ
رکین بن ربیع فزاری اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے دور میں مشرکوں نے ان کا گھوڑا قبضے میں لے لیا، پھر مسلمانوں نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے دور میں اسے واپس حاصل کر لیا۔ ہم نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے بات کی تو انہوں نے مال کی تقسیم کے بعد اسے ہمیں واپس کر دیا اور یہ خلیفہ کے خمس والے مال میں سے تھا۔