السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: ما أحرزه المشركون على المسلمين باب: مشرکین جو مال مسلمانوں سے چھین کر محفوظ کر لیں اس کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْبِسْطَامِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ كَانَ عَلَى فَرَسٍ لَهُ يَوْمَ لَقِيَ الْمُسْلِمُونَ طَيِّئًا وَأَسَدًا، وَأَمِيرُ الْمُسْلِمِينَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ بَعَثَهُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَاقْتَحَمَ الْفَرَسُ بِعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ جُرُفًا فَصَرَعَهُ، وَسَقَطَ عَبْدُ اللهِ، فَعَارَ الْفَرَسُ فَأَخَذَهُ الْعَدُوُّ، فَلَمَّا هَزَمَ اللهُ الْعَدُوَّ رَدَّ خَالِدٌ عَلَى عَبْدِ اللهِ فَرَسَهُ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ فَيُحْتَمَلَ أَنْ يَكُونَ الْعَبْدُ هُوَ الَّذِي رُدَّ عَلَيْهِ فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْفَرَسُ بَعْدَهُ لِيَكُونَ مُوَافِقًا لِرِوَايَةِ يَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، ثُمَّ رِوَايَةِ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ هَذِهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ وَلَيْسَ فِي شَيْءٍ مِنَ الرِّوَايَاتِ أَمْرُ الْقِسْمَةِ، وَلَعَلَّهُ فِي رِوَايَةِ يَحْيَى مِنْ قَوْلِ بَعْضِ الرُّوَاةِ دُونَ ابْنِ عُمَرَ.نافع سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ اپنے گھوڑے پر سوار تھے، جب مسلمانوں نے قبیلہ طیء اور اسد سے لڑائی کی تو مسلمانوں کے امیر سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے جنہیں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مقرر فرمایا تھا، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا گھوڑا انہیں لے کر ایک کھائی میں کود پڑا، اس نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو گرا دیا، گھوڑا بھاگ گیا تو دشمن نے اسے پکڑ لیا، جب دشمن کو اللہ تعالیٰ نے شکست دی تو سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو گھوڑا واپس کر دیا
نوٹ: احتمال ہے کہ غلام کی واپسی نبی ﷺ کے دور میں ہوئی ہو اور گھوڑا بعد میں واپس کیا گیا ہو، تاکہ یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ کی روایت اور پھر موسیٰ بن عقبہ کی اس روایت میں موافقت ہو جائے، واللہ اعلم۔ ان روایات میں سے کسی میں تقسیم کا تذکرہ نہیں ہے، شاید یحییٰ کی روایت میں یہ بات ابن عمر رضی اللہ عنہما کی بجائے کسی راوی کا قول ہو۔