السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: ما أحرزه المشركون على المسلمين باب: مشرکین جو مال مسلمانوں سے چھین کر محفوظ کر لیں اس کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ قَوْمًا أَغَارُوا فَأَصَابُوا امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ وَنَاقَةً لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَتِ الْمَرْأَةُ وَالنَّاقَةُ عِنْدَهُمْ، ثُمَّ انْفَلَتَتِ الْمَرْأَةُ فَرَكِبَتِ النَّاقَةَ فَأَتَتِ الْمَدِينَةَ، فَعُرِفَتْ نَاقَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنِّي نَذَرْتُ لَئِنْ نَجَّانِي اللهُ عَلَيْهَا لَأَنْحَرَنَّهَا. فَمَنَعُوهَا أَنْ تَنْحَرَهَا حَتَّى يَذْكُرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " بِئْسَ مَا جَزَيْتِهَا أَنْ نَجَّاكِ اللهُ عَلَيْهَا أَنْ تَنْحَرِيهَا، لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةِ اللهِ، وَلَا فِيمَا لَا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ ". وَقَالَا مَعًا أَوْ أَحَدُهُمَا فِي الْحَدِيثِ: وَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَتَهُ. ⦗١٨٦⦘ زَادَ أَبُو سَعِيدٍ فِي رِوَايَتِهِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَقَدْ أَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَتَهُ بَعْدَ مَا أَحْرَزَهَا الْمُشْرِكُونَ وَأَحْرَزَتْهَا الْأَنْصَارِيَّةُ عَلَى الْمُشْرِكِينَ.حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کسی قوم نے شب خون مارا اور ایک انصاری عورت اور نبی ﷺ کی اونٹنی کو پکڑ لیا، یہ عورت اور اونٹنی ان کے پاس تھیں، پھر وہ عورت اونٹنی پر سوار ہو کر مدینہ آگئی اور نبی ﷺ کی اونٹنی پہچان لی گئی۔ اس عورت نے کہا: میں نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ نے مجھے نجات دے دی تو میں اس کو ذبح کر دوں گی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے اسے ذبح کرنے سے منع فرما دیا یہاں تک کہ وہ نبی ﷺ سے تذکرہ کریں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو نے برا بدلہ دیا ہے! کہ اگر اللہ تجھے اس پر نجات دے تو اسے ذبح کرے گی؟ اللہ کی نافرمانی میں کوئی نذر نہیں اور ابن آدم جس چیز کا مالک نہیں اس کی بھی نذر نہیں۔“ دونوں یا ایک حدیث میں اکٹھے ذکر ہے کہ نبی ﷺ نے اپنی اونٹنی لے لی۔