السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: ما أحرزه المشركون على المسلمين باب: مشرکین جو مال مسلمانوں سے چھین کر محفوظ کر لیں اس کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَسَرَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنْ بَنِي عَقِيلٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: وَأُخِذَتْ نَاقَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ، وَسُبِيَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَكَانَتِ النَّاقَةُ أُصِيبَتْ قَبْلَهَا، فَكَانَتْ تَكُونُ مَعَهُمْ وَكَانُوا يَجِيئُونَ بِالنَّعَمِ إِلَيْهِمْ. قَالَ: فَانْفَلَتَتْ ذَاتَ لَيْلَةٍ مِنَ الْوَثَاقِ فَأَتَتِ الْإِبِلَ فَجَعَلَتْ كُلَّمَا أَتَتْ بَعِيرًا رَغَا ⦗١٨٥⦘ حَتَّى أَتَتْ تِلْكَ النَّاقَةَ فَشَنَقَتْهَا، فَلَمْ تَرْغُ وَهِيَ نَاقَةٌ هُدَرَةٌ، فَقَعَدَتْ فِي عَجُزِهَا ثُمَّ صَاحَتْ بِهَا فَانْطَلَقَتْ، فَطُلِبَتْ مِنْ لَيْلَتِهَا فَلَمْ يُقْدَرْ عَلَيْهَا، فَجَعَلَتْ لِلَّهِ عَلَيْهَا إِنِ اللهُ أَنْجَاهَا عَلَيْهَا لَتَنْحَرَنَّهَا. قَالُوا: لَا وَاللهِ لَا تَنْحَرِنَّهَا حَتَّى نُؤْذِنَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَأَتَوْهُ فَأَخْبَرُوهُ أَنَّ فُلَانَةَ قَدْ جَاءَتْ عَلَى نَاقَتِكَ، وَأَنَّهَا جَعَلَتْ لِلَّهِ عَلَيْهَا إِنْ أَنْجَاهَا اللهُ عَلَيْهَا لَتَنْحَرَنَّهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سُبْحَانَ اللهِ بِئْسَ مَا جَزَتْهَا، إِنِ اللهُ أَنْجَاهَا عَلَيْهِ لَتَنْحَرَنَّهَا؟ لَا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةِ اللهِ، وَلَا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِيمَا لَا يَمْلِكُ الْعَبْدُ ". أَوْ قَالَ: " ابْنُ آدَمَ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ صحابہ نے بنو عقیل کا ایک شخص قیدی بنا لیا، پھر انھوں نے حدیث کو ذکر کیا۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی اونٹنی پکڑ لی گئی اور ایک انصاری عورت قیدی بنا لی گئی۔ اونٹنی اس سے پہلے پکڑ لی گئی تھی، وہ ان میں موجود تھی اور وہ اپنے جانور لے کر ان کے پاس آئے تھے۔ راوی کہتے ہیں کہ ایک دن وہ زنجیروں سے کھل گئی اور اونٹوں کے باڑے میں آئی، وہ جس اونٹ کے پاس بھی آئی اس نے آواز نکالی، جب وہ عورت اس اونٹنی کے پاس آئی اور اس اونٹنی کو لگام دی تو اس نے آواز نہ نکالی، وہ بلبلانے والی اونٹنی تھی۔ وہ عورت اس پر سوار ہوگئی اور اسے چلایا، اس عورت کو تلاش کیا گیا لیکن وہ اس پر قادر نہ ہو سکے۔ اس عورت نے نذر مان لی کہ اگر اللہ نے مجھے نجات دی تو وہ اس اونٹنی کو ذبح کر دے گی۔ جب وہ عورت آئی تو صحابہ نے اونٹنی پہچان لی کہ یہ اونٹنی تو رسول اللہ ﷺ کی ہے، اس عورت نے کہا کہ میں نے تو نذر مانی ہے کہ اگر اللہ نے اسے نجات دے دی تو وہ اس اونٹنی کو ذبح کر دے گی۔ صحابہ نے کہا: ”اس اونٹنی کو ذبح نہ کرنا یہاں تک کہ ہم رسول اللہ ﷺ سے اجازت لے لیں۔“ صحابہ نے آ کر رسول اللہ ﷺ کو خبر دی کہ فلاں عورت آپ کی اونٹنی پر آئی ہے اور اس نے نذر مانی ہے کہ اگر اللہ نے اسے نجات دے دی تو وہ اس کو ذبح کر دے گی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سبحان اللہ! برا بدلہ ہے کہ اگر اللہ نے اسے نجات دی تو وہ اس کو ذبح کرے گی۔ اللہ کی نافرمانی میں مانی گئی نذر کا پورا کرنا واجب نہیں ہے اور نہ اس نذر کو پورا کیا جائے گا جس کا بندہ مالک نہیں رہا۔“ (یا فرمایا: ”ابنِ آدم مالک نہیں رہا۔“)