السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: الكافر الحربي يقتل مسلما ثم يسلم لم يكن عليه قود باب: حربی کافر کسی مسلمان کو قتل کر دے پھر اسلام لے آئے تو اس پر قصاص نہیں ہوگا۔
حدیث نمبر: 18192
وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ: كَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُصَابُ بِالْمُصِيبَةِ فَيَقُولُ: " أُصِيبَ زَيْدُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَصَبَرْتُ. وَأَبْصَرَ قَاتِلَ أَخِيهِ زَيْدٍ "، فَقَالَ لَهُ: وَيْحَكَ لَقَدْ قَتَلْتَ لِي أَخًا مَا هَبَّتِ الصَّبَا إِلَّا ذَكَرْتُهُ.حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن زید بن خطاب فرماتے ہیں کہ جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو کوئی پریشانی یا مصیبت آتی تو فرماتے کہ مجھے زید بن خطاب رضی اللہ عنہ کی مصیبت پہنچی تھی، میں نے صبر کیا؛ انہوں نے اپنے بھائی زید رضی اللہ عنہ کے قاتل کو دیکھا تو اس سے فرمایا: افسوس تیرے اوپر! تو نے میرے بھائی کو قتل کر دیا، جب بھی صبح کی ہوا چلتی ہے تو میں بھائی کو یاد کرتا ہوں۔