حدیث نمبر: 18190
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَغَيْرُهُ، قَالُوا: ثنا أَبُو عَاصِمٍ، أنبأ حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنِ ابْنِ شِمَاسَةَ الْمَهْرِيِّ، قَالَ: حَضَرْنَا عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ فِي سِيَاقَةِ الْمَوْتِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُبَايِعَهُ عَلَى الْإِسْلَامِ، فَقُلْتُ: ابْسُطْ يَمِينَكَ أُبَايِعْكَ يَا رَسُولَ اللهِ، فَبَسَطَ يَدَهُ، فَقَبَضْتُ يَدِي، فَقَالَ: " مَا لَكَ يَا عَمْرُو؟ ". قُلْتُ: أَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِطَ، قَالَ: " تَشْتَرِطُ مَاذَا؟ ". قُلْتُ: أَشْتَرِطُ أَنْ يُغْفَرَ لِي، قَالَ: " أَمَا عَلِمْتَ يَا عَمْرُو أَنَّ الْإِسْلَامَ يَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهُ ". وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ.
حافظ ثناء اللہ

ابن شماسہ مصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی موت کے وقت ان کے پاس حاضر ہوئے۔ فرماتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس اسلام پر بیعت کے لیے حاضر ہوا۔ میں نے کہا: ہاتھ نکالیے اے اللہ کے رسول! میں بیعت کرنا چاہتا ہوں۔ آپ ﷺ نے ہاتھ پھیلایا تو میں نے ہاتھ پیچھے کر لیا۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”اے عمرو! کیا بات ہے؟“ میں نے کہا: میں شرط کرنا چاہتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”شرط کرو کیا ہے؟“ میں نے کہا: میری شرط یہ ہے کہ مجھے معاف کر دیا جائے گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عمرو! کیا تو جانتا نہیں ہے کہ اسلام پہلے تمام گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18190
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم ١٢١»