❮
❯
حدیث نمبر: 18188
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرٍو الضَّمْرِيِّ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ إِلَى الشَّامِ، فَلَمَّا قَدِمْنَا حِمْصَ، قَالَ لِي عُبَيْدُ اللهِ: هَلْ لَكَ فِي وَحْشِيٍّ نَسْأَلُهُ عَنْ قَتْلِ حَمْزَةَ، وَقَالَ أَبُو دَاوُدُ فِي رِوَايَتِهِ: عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْفَضْلِ الْهَاشِمِيُّ، عَنْ ⦗١٦٦⦘ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ كَذَا فِي كِتَابِي، قَالَ: " أَقْبَلْنَا مِنَ الرُّومِ فَلَمَّا قَرُبْنَا مِنْ حِمْصَ قُلْنَا: لَوْ مَرَرْنَا بِوَحْشِيٍّ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ قَتْلِ حَمْزَةَ، فَلَقِينَا رَجُلًا فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: هُوَ رَجُلٌ قَدْ غَلَبَ عَلَيْهِ الْخَمْرُ، فَإِنْ أَدْرَكْتُمَاهُ وَهُوَ صَاحٍ لَمْ تَسْأَلَاهُ عَنْ شَيْءٍ إِلَّا أَخْبَرَكُمَا، وَإِنْ أَدْرَكْتُمَاهُ شَارِبًا فَلَا تَسْأَلَاهُ، فَانْطَلَقْنَا حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَيْهِ قَدْ أُلْقِيَ لَهُ شَيْءٌ عَلَى بَابِهِ وَهُوَ جَالِسٌ صَاحٍ، فَقَالَ: ابْنُ الْخِيَارِ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: مَا رَأَيْتُكَ مُنْذُ حَمَلَتْكَ إِلِيَّ أُمُّكَ بِذِي طُوًى إِذْ وَضَعَتْكَ فَرَأَيْتُ قَدَمَيْكَ فَعَرَفْتُهُمَا، قَالَ: قُلْتُ: جِئْنَاكَ نَسْأَلُكَ عَنْ قَتْلِ حَمْزَةَ، قَالَ: سَأُحَدِّثُكُمَا كَمَا حَدَّثْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ سَأَلَنِي، كُنْتُ عَبْدًا لِآلِ مُطْعِمٍ، فَقَالَ لِي ابْنُ أَخِي مُطْعِمٍ: إِنْ أَنْتَ قَتَلْتَ حَمْزَةَ بِعَمِّي فَأَنْتَ حُرٌّ، فَانْطَلَقْتُ يَوْمَ أُحُدٍ مَعِي حَرْبَتِي وَأَنَا رَجُلٌ مِنَ الْحَبَشَةِ أَلْعَبُ بِهَا لَعِبَهُمْ، فَخَرَجْتُ يَوْمَئِذٍ مَا أُرِيدُ أَنْ أَقْتُلَ أَحَدًا وَلَا أُقَاتِلَهُ إِلَّا حَمْزَةَ، فَخَرَجْتُ فَإِذَا أَنَا بِحَمْزَةَ كَأَنَّهُ بَعِيرٌ أَوْرَقُ مَا يَرْفَعُ لَهُ أَحَدٌ إِلَّا قَمَعَهُ بِالسَّيْفِ، فَهِبْتُهُ وَبَادَرَنِي إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي وَلَدِ سِبَاعٍ، فَسَمِعْتُ حَمْزَةَ يَقُولُ: إِلِيَّ يَا ابْنَ مُقَطِّعَةِ الْبُظُورِ، فَشَدَّ عَلَيْهِ فَقَتَلَهُ، وَجَعَلْتُ أَلُوذُ مِنْهُ فَلُذْتُ مِنْهُ بِشَجَرَةٍ وَمَعِي حَرْبَتِي، حَتَّى إِذَا اسْتَمْكَنْتُ مِنْهُ هَزَزْتُ الْحَرْبَةَ حَتَّى رَضِيتُ مِنْهَا، ثُمَّ أَرْسَلْتُهَا فَوَقَعَتْ بَيْنَ ثَنْدُوَتَيْهِ وَنَهَزَ لِيَقُومَ فَلَمْ يَسْتَطِعْ فَقَتَلْتُهُ، ثُمَّ أَخَذْتُ حَرْبَتِي مَا قَتَلْتُ أَحَدًا وَلَا قَاتَلْتُهُ، فَلَمَّا جِئْتُ عَتَقْتُ، فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَدْتُ الْهَرَبَ مِنْهُ أُرِيدُ الشَّامَ فَأَتَانِي رَجُلٌ، فَقَالَ: وَيْحَكَ يَا وَحْشِيُّ، وَاللهِ مَا يَأْتِي مُحَمَّدًا أَحَدٌ يَشْهَدُ بِشَهَادَتِهِ إِلَّا خَلَّى عَنْهُ، فَانْطَلَقْتُ فَمَا شَعَرَ بِي إِلَّا وَأَنَا وَاقِفٌ عَلَى رَأْسِهِ أَشْهَدُ بِشَهَادَةِ الْحَقِّ، فَقَالَ: " أَوَحْشِيٌّ؟ "، قُلْتُ: وَحْشِيٌّ، قَالَ: " وَيْحَكَ حَدِّثْنِي عَنْ قَتْلِ حَمْزَةَ ". فَأَنْشَأْتُ أُحَدِّثُهُ كَمَا حَدَّثْتُكُمَا، فَقَالَ: " وَيْحَكَ يَا وَحْشِيُّ غَيِّبْ عَنِّي وَجْهَكَ فَلَا أَرَاكَ ". فَكُنْتُ أَتَّقِي أَنْ يَرَانِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَبَضَ اللهُ نَبِيَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا كَانَ مِنْ أَمْرِ مُسَيْلِمَةَ مَا كَانَ، ثُمَّ انْبَعَثَ إِلَيْهِ الْبَعْثُ انْبَعَثْتُ مَعَهُ وَأَخَذْتُ حَرْبَتِي فَالْتَقَيْنَا، فَبَادَرْتُهُ أَنَا وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَرَبُّكَ أَعْلَمُ أَيُّنَا قَتَلَهُ، فَإِنْ كُنْتُ أَنَا قَتَلْتُهُ فَقَدْ قَتَلْتُ خَيْرَ النَّاسِ وَشَرَّ النَّاسِ. قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ: كُنْتُ فِي الْجَيْشِ يَوْمَئِذٍ فَسَمِعْتُ قَائِلًا يَقُولُ فِي مُسَيْلِمَةَ قَتَلَهُ الْعَبْدُ الْأَسْوَدُ. " لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي دَاوُدَ، وَحَدِيثِ حُجَيْنٍ بِمَعْنَاهُ يَزِيدُ وَيَنْقُصُ، لَمْ يَذْكُرْ حَدِيثَ الشُّرْبِ وَلَا قَوْلَهُ إِنْ كُنْتُ قَتَلْتُهُ "، وَقَدْ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ حُجَيْنِ بْنِ الْمُثَنَّى.
حافظ ثناء اللہ

جعفر بن عمرو الضمری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں عبیداللہ بن عدی بن خیار کے ساتھ شام کی جانب گیا۔ جب ہم حمص پہنچے تو مجھ سے عبیداللہ نے کہا: کیا ہم وحشی رضی اللہ عنہ سے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے قتل کے بارے میں پوچھیں؟
(ب) سلیمان بن یسار رحمہ اللہ، عبیداللہ بن عدی بن خیار سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم روم سے آئے۔ جب ہم حمص کے قریب پہنچے تو ہم نے کہا: اگر ہم وحشی رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے قتل کے بارے میں ان سے سوال کریں گے۔ ہماری ملاقات ایک شخص سے ہوئی، ہم نے اس کے سامنے تذکرہ کیا تو اس نے کہا: وہ ایسا شخص ہے جس پر شراب غالب آ چکی ہے، اگر تم اسے ہوش کی حالت میں پاؤ تو جو بات بھی پوچھو گے وہ تمہیں بتا دے گا اور اگر نشے کی حالت میں پاؤ تو اس سے سوال نہ کرنا۔ ہم چلے یہاں تک کہ جب ہم اس کے پاس پہنچے تو دروازے کے سامنے اس کے لیے کوئی چیز بچھائی گئی تھی جس پر وہ ہوش کی حالت میں بیٹھا تھا۔ اس نے کہا: ابن خیار؟ میں نے کہا: ہاں۔ اس نے کہا: میں نے تجھے اس وقت سے نہیں دیکھا جب تیری والدہ نے تجھے جنم دیا اور ذی طویٰ نامی جگہ پر تجھے اٹھا کر میرے پاس لائی تھی، میں نے تیرے دونوں قدموں کو دیکھ کر پہچان لیا ہے۔ کہتے ہیں: میں نے کہا: ہم آپ کے پاس سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے قتل کے بارے میں پوچھنے کے لیے آئے ہیں۔ اس نے کہا: تمہیں ویسے ہی بیان کرتا ہوں جیسے میں نے رسول اللہ ﷺ سے بیان کیا تھا جس وقت آپ ﷺ نے مجھ سے پوچھا۔ میں آلِ مطعم کا غلام تھا، مطعم کے بھتیجے نے مجھے کہا: اگر تو نے میرے چچا کے بدلے حمزہ کو قتل کر دیا تو تو آزاد ہے۔ احد کے دن میں اپنا نیزہ لے کر چلا۔ میں حبشی آدمی تھا، میں ان کی طرح اس نیزے کے ساتھ کھیلا کرتا تھا۔ میں اس دن کسی کو قتل کرنے اور کسی سے لڑائی کی غرض سے نہ گیا تھا، صرف سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو قتل کرنا مقصود تھا۔ میں نکلا کہ اچانک سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ نظر آئے، گویا کہ وہ خاکستری رنگ کا اونٹ ہیں، جو بھی ان کے سامنے آتا تلوار سے اس کا خاتمہ کر دیتے۔ میں ڈر گیا، بنی ولد سباع کے ایک شخص نے ان کی جانب جلد بازی کی۔ میں نے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو سنا، وہ کہہ رہے تھے: ”اے ختنے کرنے والی عورت کے بیٹے!“ اور اس کے پیچھے ہو کر اس کو قتل کر دیا اور میں بھی ان سے بچاؤ حاصل کر رہا تھا۔ میں ایک درخت کی اوٹ میں ہو کر بچا اور میرے پاس نیزہ بھی تھا، یہاں تک کہ جب میں نے ان پر قابو پا لیا تو میں نے اپنے نیزے کو حرکت دی یہاں تک کہ میں اس سے مطمئن ہو گیا، پھر میں نے نیزے کو چھوڑا تو وہ چھاتی کے درمیان لگا۔ انہوں نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن وہ اٹھ نہ سکے۔ میں نے انہیں قتل کر دیا۔ میں نے اپنا نیزہ پکڑا، نہ تو میں نے کسی اور کو قتل کیا اور نہ ہی کسی سے لڑائی کی۔ جب میں واپس آیا تو میں آزاد تھا۔ جب رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو میں نے شام کی جانب بھاگ جانے کا ارادہ کیا تو ایک شخص نے مجھے کہا: اے وحشی! تجھ پر افسوس، اللہ کی قسم! جو بھی محمد ﷺ کے پاس جا کر اسلام قبول کر لیتا ہے، آپ ﷺ اس کو چھوڑ دیتے ہیں۔ میں چلا، آپ ﷺ کو میرا پتا نہ چلا یہاں تک کہ میں آپ ﷺ کے پاس کھڑا ہو کر حق کی گواہی دے رہا تھا۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا وحشی ہے؟“ میں نے کہا: جی وحشی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے اوپر افسوس! مجھے حمزہ کے قتل کے بارے میں بیان کرو۔“ میں نے ایسے ہی بیان کیا جیسے تم دونوں کو بیان کیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے وحشی! اپنا چہرہ مجھ سے چھپالو، میں تجھے نہ دیکھوں۔“ وحشی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں بچا کرتا تھا کہ رسول اللہ ﷺ کہیں مجھے دیکھ نہ لیں، یہاں تک کہ اللہ نے اپنے نبی ﷺ کو وفات دے دی۔ جب مسیلمہ کا معاملہ پیش آیا تو جو لشکر بھی اس کی جانب بھیجا جاتا میں بھی اس کے ساتھ شامل ہوتا اور میں نے اپنے نیزے کو پکڑ لیا۔ ہماری ملاقات ہو گئی تو میں اور ایک انصاری شخص نے اس کی طرف جلدی کی۔ تیرا رب بہتر جانتا ہے کہ ہم میں سے کس نے اس کو قتل کیا۔ اگر میں نے اس کو قتل کیا ہے تو میں نے لوگوں میں سے بہترین اور بدترین شخص کو قتل کیا۔
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: میں بھی اس دن لشکر میں شامل تھا کہ میں نے کسی کہنے والے سے سنا کہ وہ مسیلمہ کے بارے میں کہہ رہا تھا کہ اس کو سیاہ غلام نے قتل کر دیا ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18188
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري ٤٠٧٢»