السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: المنع من إحراق المشركين بالنار بعد الإسار باب: مشرکین کو قید کرنے کے بعد آگ میں جلانے کی ممانعت کا بیان۔
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا مُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيُّ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَمْزَةَ الْأَسْلَمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّرَهُ عَلَى سَرِيَّةٍ، قَالَ: فَخَرَجْتُ فِيهَا، وَقَالَ: " إِنْ وَجَدْتُمْ فُلَانًا فَأَحْرِقُوهُ بِالنَّارِ ". فَوَلَّيْتُ فَنَادَانِي فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: " إِنْ وَجَدْتُمْ فُلَانًا فَاقْتُلُوهُ وَلَا تَحْرِقُوهُ؛ فَإِنَّهُ لَا يُعَذِّبُ بِالنَّارِ إِلَّا رَبُّ النَّارِ ". " وَأَمَّا حَدِيثُ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ حَيْثُ أَمَرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحْرِقَ عَلَى أُبْنَى، وَمَا رُوِيَ فِي نَصْبِ الْمَنْجَنِيقِ عَلَى الطَّائِفِ فَغَيْرُ مُخَالِفٍ لِمَا قُلْنَا، إِنَّمَا هُوَ فِي قِتَالِ الْمُشْرِكِينَ مَا كَانُوا مُمْتَنِعِينَ، وَمَا رُوِيَ مِنَ النَّهْيِ فِي الْمُشْرِكِينَ إِذَا كَانُوا مَأْسُورِينَ، وَشَبَّهَهُ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ بِرَمْيِ الصَّيْدِ مَا دَامَ عَلَى الِامْتِنَاعِ، ثُمَّ النَّهْيِ عَنْ رَمْيِ الدَّجَاجَةِ الَّتِي لَيْسَتْ بِمُمْتَنِعَةٍ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ ".محمد بن حمزہ اسلمی رضی اللہ عنہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں ایک لشکر کا امیر بنایا۔ وہ کہتے ہیں: میں اس لشکر میں گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم فلاں کو پا لو تو آگ سے جلا دینا۔“ میں جانے لگا تو آپ ﷺ نے آواز دی۔ میں آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم فلاں کو پا لو تو قتل کر دینا، جلانا نہیں؛ کیونکہ آگ کا عذاب اس کا رب ہی دے سکتا ہے۔“
(ب) اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کی حدیث جس میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں اُبنیٰ (نامی بستی) کو جلانے کا حکم دیا اور طائف پر منجنیق نصب کرنے کی جو روایت ہے، وہ ہمارے قول کے مخالف نہیں ہے۔ وہ صرف مشرکین سے قتال کے بارے میں ہے، جب تک وہ (مقابلہ کرتے ہوئے) قابو سے باہر ہوں اور (آگ سے عذاب دینے کی) ممانعت مشرکین کے بارے میں اس وقت ہے جب وہ قیدی ہوں۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے اسے شکار کو تیر مارنے سے تشبیہ دی ہے جب تک وہ قابو سے باہر ہو، پھر اس مرغی کو تیر مارنے کی ممانعت ہے جو قابو سے باہر نہ ہو (یعنی بندھی ہوئی ہو)۔