السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: المنع من إحراق المشركين بالنار بعد الإسار باب: مشرکین کو قید کرنے کے بعد آگ میں جلانے کی ممانعت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبِسْطَامِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: رَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ، وَأَيُّوبَ، وَعَمَّارًا الدُّهْنِيَّ اجْتَمَعُوا، فَتَذَاكَرُوا الَّذِينَ حَرَقَهُمْ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَحَدَّثَ أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ بَلَغَهُ، قَالَ: لَوْ كُنْتُ أَنَا مَا حَرَقْتُهُمْ؛ لِقَوْلِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُعَذِّبُوا بِعَذَابِ اللهِ"، وَلَقَتَلْتُهُمْ لِقَوْلِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ". فَقَالَ عَمَّارٌ: لَمْ يَحْرِقْهُمْ، وَلَكِنْ حَفَرَ لَهُمْ حَفَائِرَ وَخَرَقَ بَعْضَهَا إِلَى بَعْضٍ، ثُمَّ دَخَّنَ عَلَيْهِمْ حَتَّى مَاتُوا. فَقَالَ عَمْرٌو: قَالَ الشَّاعِرُ:.سفیان کہتے ہیں کہ میں نے عمرو بن دینار، ایوب اور عمار دہنی کو دیکھا، وہ سب اکٹھے تھے، انہوں نے ان لوگوں کے بارے میں مذاکرہ کیا جن کو علی رضی اللہ عنہ نے جلا دیا تھا۔
(ب) عکرمہ، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں: اگر میں ہوتا تو انہیں رسول اللہ ﷺ کے اس قول کی وجہ سے نہ جلاتا کہ ”تم اللہ کے عذاب کے ساتھ عذاب نہ دو“ اور رسول کریم ﷺ کے فرمان کی وجہ سے قتل کر دیتا کہ ”جو مرتد ہو جائے (اپنا دین بدل لے) اسے قتل کر دو۔“ عمار کہتے ہیں: ان کو جلایا نہیں گیا تھا بلکہ ان کے لیے گڑھے کھودے گئے جن کے اندر سوراخ کر دیے گئے تھے، پھر ان پر دھواں چھوڑ دیا گیا یہاں تک کہ وہ مر گئے۔ عمرو نے کہا کہ شاعر نے کہا ہے: تو مجھے جیسے چاہے موت کے آگے ڈال دے، جب کہ تو نے مجھے دو گڑھوں میں نہ ڈالا ہو جب انہوں نے لکڑیوں اور آگ کو اکٹھا کر دیا ہو، تو پھر موت فوراً آتی ہے، دیر نہیں کرتی۔