السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: العبيد والنساء والصبيان يحضرون الوقعة باب: غلاموں، عورتوں اور بچوں کا جنگ میں حاضر ہونے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْأُمَوِيُّ، وَأَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ ⦗٩١⦘ عَطَاءٍ، أنبأ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ح، قَالَ: وَأنبأ أَبُو الْفَضْلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَاللَّفْظُ لَهُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ قَيْسًا وَهُوَ ابْنُ سَعْدٍ، يُحَدِّثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ، أَنَّ نَجْدَةَ بْنَ عَامِرٍ، كَتَبَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنِ اكْتُبْ إِلِيَّ مَنْ ذَوُو الْقُرْبَى الَّذِينَ ذَكَرَهُمُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ وَفَرَضَ لَهُمْ مِمَّا أَفَاءَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ، وَمَتَى يَنْقَضِي يُتْمُ الْيَتِيمِ، وَهَلْ يُقْتَلُ صِبْيَانُ الْمُشْرِكِينَ، وَهَلْ لِلنِّسَاءِ وَالْعَبِيدِ إِذَا حَضَرُوا الْبَأْسَ مِنْ سَهْمٍ مَعْلُومٍ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " لَوْلَا أَنِّي أَخَافُ أَنْ يَقَعَ فِي شَيْءٍ مَا كَتَبْتُ إِلَيْهِ فَكَتَبَ إِلَيْهِ وَأَنَا شَاهِدٌ: أَمَّا ذَوُو الْقُرْبَى فَإِنَّا كُنَّا نَرَى أَنَّهُمْ قَرَابَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَبَى ذَلِكَ عَلَيْنَا قَوْمُنَا، وَأَمَّا صِبْيَانُ الْمُشْرِكِينَ فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَقْتُلْ مِنْهُمْ أَحَدًا، فَلَا تَقْتُلْ إِلَّا أَنْ تَعْلَمَ مَا عَلِمَ الْخَضِرُ مِنَ الْغُلَامِ الَّذِي قَتَلَهُ، وَأَمَّا مَا سَأَلْتَ عَنِ انْقِضَاءِ يُتْمِ الْيَتِيمِ فَإِذَا بَلَغَ الْحُلُمَ وَأُونِسَ مِنْهُ رُشْدُهُ، فَقَدِ انْقَضَى يُتْمُهُ فَادْفَعْ إِلَيْهِ مَالَهُ، وَأَمَّا النِّسَاءُ وَالْعَبِيدُ فَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ سَهْمٌ مَعْلُومٌ إِذَا حَضَرُوا الْبَأْسَ، وَلَكِنْ يُحْذَوْنَ مِنْ غَنَائِمِ الْقَوْمِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.نجدہ بن عامر نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو خط لکھا کہ مجھے بتاؤ وہ کون سے رشتہ دار ہیں جن کا اللہ نے ذکر کیا ہے کہ ان کو مالِ فئی میں سے دیا جائے گا جو اللہ نے رسول کو بغیر جنگ کے عطا کیا ہے اور یتیم کی یتیمی کب ختم ہو گی؟ کیا مشرکین کے بچوں کو قتل کیا جائے گا؟ اگر عورتیں اور غلام جنگ میں جائیں تو کیا ان کے لیے حصہ مقرر ہے؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اگر مجھے ڈر نہ ہوتا کہ یہ اس میں مبتلا ہو جائے تو میں نہ لکھتا، تو انہوں نے لکھا: میں وہاں موجود تھا کہ رشتہ داروں سے مراد ہمارے نزدیک صرف رسول اللہ ﷺ کے رشتہ دار ہیں جبکہ ہماری قوم نے اس کا انکار بھی کیا ہے۔ رہے مشرکین کے بچے تو رسول اللہ ﷺ نے کسی بچے کو قتل نہیں کیا تو تم بھی قتل نہ کرو، ہاں! اگر تم وہ جان لو جو خضر علیہ السلام نے جانا تھا اس بچے کے متعلق جس کو انہوں نے قتل کیا تھا اور یتیمی کی آخری مدت احتلام کا آنا یا سمجھداری کا پتا چلنا ہے، تو اس کی یتیمی ختم ہو گئی، اب ان کا مال ان کو دے دو اور اگر عورتیں اور غلام جنگ میں جائیں تو ان کے لیے مقرر حصہ تو نہیں ہے، ہاں! ان کو غنیمت میں سے کچھ تحفۃً دے دو۔