أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ ⦗٩٠⦘ عُرْوَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَضْرِبُ فِي الْمَغْنَمِ بِأَرْبَعَةِ أَسْهُمٍ، سَهْمٍ لَهُ وَسَهْمَيْنِ لِفَرَسِهِ، وَسَهْمٍ فِي ذِي الْقُرْبَى. سَهْمُ أُمِّهِ صَفِيَّةَ يَوْمَ خَيْبَرَ قَالَ: وَكَانَ ابْنُ عُيَيْنَةَ يَهَابُ أَنْ يَذْكُرَ يَحْيَى بْنَ عَبَّادٍ، وَالْحُفَّاظُ يَرْوُونَهُ عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ قَالَ الشَّيْخُ: قَدْ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِنَحْوِهِ، وَهُوَ مَعَ مَا ذَكَرَ يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ فِيهِ مُرْسَلٌ، وَقَدْ وَصَلَهُ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَمُحَاضِرُ بْنُ مُوَرِّعٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ.سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ غنیمت کے مال کے چار حصے بناتے تھے: ایک حصہ اپنے لیے، دو حصے گھوڑے کے لیے، ایک اپنے قریبیوں کے لیے اور اپنی ماں صفیہ رضی اللہ عنہا کا حصہ خیبر کے دن کا۔ ابن عیینہ رحمہ اللہ، یحییٰ بن عباد کا ذکر کرنے سے ڈرتے تھے جبکہ حفاظ اسے یحییٰ بن عباد ہی سے نقل کرتے ہیں۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس سند سے کہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ خیبر میں آئے، آپ ﷺ نے ان کے لیے پانچ حصے مقرر کیے۔ ایک ان کا اور چار ان کے گھوڑے کے۔ اوزاعی رحمہ اللہ نے اس بات کو قبول کیا ہے کہ یہ مکحول رحمہ اللہ سے منقطع ہے اور ہشام بن عروہ رحمہ اللہ حریص تھے کہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے دو گھوڑوں کے لیے حصہ زیادہ کیا جائے۔ یہ زیادہ اشبہ ہے جبکہ مکحول رحمہ اللہ مخالف ہیں۔ اگرچہ ان کی حدیث مقطوع ہے، اس سے دلیل نہیں لی جائے گی۔ وہ حدیث مکحول رحمہ اللہ کی حدیث کی طرح ہی ہے لیکن ہم اہل مغازی کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ ان میں سے کسی نے بھی یہ روایت نہیں کی کہ آپ ﷺ نے دو گھوڑوں کا حصہ مقرر کیا ہو، جبکہ اس میں اختلاف نہیں ہے کہ وہ خیبر میں تین گھوڑوں کے ساتھ گئے تھے: (1) «سَكْبٌ» ”سکب“ (2) «ظَرْبٌ» ”ظرب“ (3) «مُرْتَجِزٌ» ”مرتجز“؛ آپ ﷺ نے ان میں سے صرف ایک ہی کا حصہ لیا تھا۔