السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: الغنيمة لمن شهد الوقعة باب: مالِ غنیمت اس شخص کے لیے ہے جو جنگ میں حاضر ہو۔
وَأَمَّا الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ حِكَايَةً عَنْ أَبِي يُوسُفَ، عَنِ الْمُجَالِدِ، عَنْ عَامِرٍ، وَزِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَتَبَ إِلَى سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ: " قَدْ أَمْدَدْتُكَ بِقَوْمٍ فَمَنْ أَتَاكَ مِنْهُمْ قَبْلَ أَنْ تَتَفَقَّأَ الْقَتْلَى فَأَشْرِكْهُ فِي الْغَنِيمَةِ ". قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فَهَذَا غَيْرُ ثَابِتٍ عَنْ عُمَرَ، وَلَوْ ثَبَتَ عَنْهُ كُنَّا أَسْرَعَ إِلَى قَبُولِهِ مِنْهُ، ثُمَّ ذَكَرَ مُخَالَفَةَ أَبِي يُوسُفَ حَدِيثَ عُمَرَ هَذَا. قَالَ الشَّيْخُ: وَهُوَ مُنْقَطِعٌ، وَرِوَايَةُ مُجَالِدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَحَدِيثُ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ إِسْنَادُهُ صَحِيحٌ لَا شَكَّ فِيهِ وَاللهُ أَعْلَمُ ". قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ يَثْبُتُ فِي مَعْنَى مَا رُوِيَ عَنْ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا لَا يَحْضُرُنِي حِفْظُهُ ". قَالَ الشَّيْخُ: " إِنَّمَا أَرَادَ وَاللهُ أَعْلَمُ حَدِيثَ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي قِصَّةِ أَبَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ حِينَ وَقَعَ مَعَ أَصْحَابِهِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَيْبَرَ، بَعْدَ أَنْ فَتَحَهَا وَلَمْ يَقْسِمْ لَهُمْ، وَقَدْ مَضَى ذَلِكَ بِأَسَانِيدِهِ مَعَ سَائِرِ مَا رُوِيَ فِي هَذَا الْبَابِ فِي كِتَابِ الْقَسْمِ.حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو لکھا: آپ کی مدد کے لیے کچھ لوگ بھیج رہا ہوں۔ ان میں سے جو مقتولین کے اکھڑنے سے پہلے پہنچ جائیں ان کو غنیمت میں شریک کرو۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں ہے۔ اگر ثابت ہو جائے تو ہم جلدی قبول کریں گے۔ پھر ابو یوسف کی مخالفت ذکر کی ہے جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کے ساتھ ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: یہ منقطع ہے، اس کا راوی مجالد ضعیف ہے۔ طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ والی حدیث کی سند صحیح ہے، اس میں کوئی شک نہیں ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ سے اس میں کچھ ثابت ہے جو حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما سے منقول روایت کے موافق ہے مگر مجھے اچھی طرح یاد نہیں تھا۔
شیخ فرماتے ہیں: شاید ان کی مراد حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے جس میں حضرت ابان بن سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے۔ جب وہ نبی ﷺ کے پاس آئے تو آپ خیبر کو فتح کر چکے تھے، آپ نے ان کو حصہ نہیں دیا۔ یہ پہلے «كِتَابُ الْقِسْمِ» میں گزر گیا ہے اور جو کچھ اس میں بیان ہوا ہے۔