حدیث نمبر: 17950
وَقَدْ مَضَتِ الْأَخْبَارُ فِي كِتَابِ قَسْمِ الْفَيْءِ وَالْغَنِيمَةِ نَحْنُ نَذْكُرُ هَهُنَا طَرَفًا مِنْهَا إِنْ شَاءَ اللهُ.
حافظ ثناء اللہ

اور کتاب قسم الفیء والغنیمۃ (مال فے اور مال غنیمت کی تقسیم کے باب) میں احادیث گزر چکی ہیں، ہم یہاں ان شاء اللہ ان میں سے کچھ حصہ ذکر کریں گے۔

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ح وَأنبأ أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي حَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ: " مَنْ أَقَامَ بَيِّنَةً عَلَى قَتِيلٍ فَلَهُ سَلَبُهُ ". فَقُمْتُ لِأَلْتَمِسَ بَيِّنَةً عَلَى قَتِيلِي، فَلَمْ أَرَ أَحَدًا يَشْهَدُ لِي، فَجَلَسْتُ ثُمَّ بَدَا لِي فَذَكَرْتُ أَمْرَهُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ جُلَسَائِهِ: سِلَاحُ هَذَا الْقَتِيلِ الَّذِي يَذْكُرُ عِنْدِي. قَالَ: فَأَرْضِهِ مِنْهُ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: كَلَّا لَا يُعْطَهُ أُصَيْبِغٌ مِنْ قُرَيْشٍ وَيَدَعُ أَسَدًا مِنْ أُسْدِ اللهِ يُقَاتِلُ عَنِ اللهِ وَرَسُولِهِ. قَالَ: فَعَلِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَدَّاهُ إِلِيَّ، فَاشْتَرَيْتُ مِنْهُ خِرَافًا، فَكَانَ أَوَّلَ مَالٍ تَأَثَّلْتُهُ. وَقَالَ أَبُو عَمْرٍو فِي رِوَايَتِهِ: " فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَدَّاهُ إِلِيَّ ". ⦗٨٦⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ عَلَى اللَّفْظِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ قَالَ الْبُخَارِيُّ: قَالَ عَبْدُ اللهِ، عَنِ اللَّيْثِ: فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَدَّاهُ إِلِيَّ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حنین کے دن رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو مقتول کے بارے میں دلیل دے دے کہ اس نے قتل کیا ہے تو اس سے لیا گیا مال قاتل کا ہوگا۔“ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے جن کو قتل کیا تھا ان پر گواہی تلاش کر رہا تھا، مجھے کوئی نہ ملا جو میرے حق میں گواہی دے، میں بیٹھ گیا پھر معاملہ مجھ پر کھل گیا، میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے ذکر کیا تو ایک آدمی نے مجلس میں سے کہا کہ اس مقتول کا اسلحہ میرے پاس ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو اس معاملے میں راضی کرو۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اسے بکری کا چھوٹا بچہ بھی قریش کی طرف سے نہیں دیا جائے گا، کیا وہ اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر کو چھوڑ دیں گے جو اللہ اور اس کے لیے لڑتا تھا؟ اللہ کے رسول ﷺ کو جب علم ہوا تو وہ مال میری طرف ادا کر دیا، تو میں نے اس سے ایک باغ خرید لیا، یہ پہلا مال تھا جو میں نے اپنے لیے جمع کیا ہے، ابو عمرو اپنی روایت میں کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اٹھے اور مال مجھے دے دیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 17950
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»