السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: النفير وما يستدل به على أن الجهاد فرض على الكفاية باب: عام بلاوے (نفیر) اور اس دلیل کا بیان جس سے ثابت ہوتا ہے کہ جہاد فرضِ کفایہ ہے۔
حدیث نمبر: 17940
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَى بَنِي لِحْيَانَ، وَقَالَ: " لِيَخْرُجْ مِنْ كُلِّ رَجُلَيْنِ رَجُلٌ ". ثُمَّ قَالَ لِلْقَاعِدِ: " أَيُّكُمْ خَلَفَ الْخَارِجَ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ بِخَيْرٍ كَانَ لَهُ مِثْلُ نِصْفِ أَجْرِ الْخَارِجِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَنْصُورٍ.حافظ ثناء اللہ
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بنو لحیان کی طرف وفد بھیجا اور فرمایا: ”ہر دو آدمیوں میں سے ایک آدمی نکلے۔“ پھر «الْقَاعِدِينَ» (بیٹھنے والوں) سے کہا: ”جو بھی جہاد پر جانے والے کا قائم مقام بنے اس کے گھر بار میں بھلائی سے تو اس کو جہاد پر جانے والے کے اجر کے آدھے کے برابر اجر دیا جاتا ہے۔“