السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: النفير وما يستدل به على أن الجهاد فرض على الكفاية باب: عام بلاوے (نفیر) اور اس دلیل کا بیان جس سے ثابت ہوتا ہے کہ جہاد فرضِ کفایہ ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {خُذُوا حِذْرَكُمْ فَانْفِرُوا ثُبَاتٍ} [النساء: ٧١]، عُصَبًا، {أَوِ انْفِرُوا جَمِيعًا} [النساء: ٧١]، وَقَالَ: {انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا} [التوبة: ٤١]، وَقَالَ {إِلَّا تَنْفِرُوا يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا} [التوبة: ٣٩]، ثُمَّ نَسَخَ هَذِهِ الْآيَاتِ، فَقَالَ: {وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنْفِرُوا كَافَّةً} [التوبة: ١٢٢]، قَالَ: فَتَغْزُو طَائِفَةٌ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتُقِيمُ طَائِفَةٌ، قَالَ: فَالْمَاكِثُونَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُمُ الَّذِينَ يَتَفَقَّهُونَ فِي الدِّينِ وَيُنْذِرُونَ قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ مِنَ الْغَزْوِ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ مَا نَزَّلَ اللهُ مِنْ كِتَابِهِ وَفَرَائِضِهِ وَحُدُودِهِ ".سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا خُذُوا حِذْرَكُمْ فَانْفِرُوا ثُبَاتًا﴾ [سورة النساء: 71] ”اے ایمان والو! اپنے بچاؤ کا سامان پکڑو۔ پھر دستوں کی صورت میں نکلو۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: «ثُبَات» کا معنی جماعت ہے ”اے ایمان والو!“ ﴿أَوِ انْفِرُوا جَمِيعًا﴾ [سورة النساء: 71] ”یا اکٹھے ہو کر نکلو۔“ اور فرمایا: ﴿انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا﴾ [سورة التوبة: 41] ”نکلو ہلکے اور بوجھل۔“ اور فرمایا: ﴿إِلَّا تَنْفِرُوا يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا﴾ [سورة التوبة: 39] ”اگر تم نہ نکلو تو تمہیں دردناک عذاب دے گا۔“ پھر ان آیات کو منسوخ کردیا اور فرمایا: ﴿وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنْفِرُوا كَافَّةً﴾ [سورة التوبة: 122] ”اور ممکن نہیں ہے کہ مومن سب کے سب نکل جائیں۔“ اور فرمایا: ایک گروہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ محاذ پر اور ایک پیچھے رہتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رہنے والے دین کی سمجھ رکھنے والے ہیں اور وہ قوم کو ڈراتے ہیں جب ان کے پاس آتے ہیں تاکہ وہ ڈرتے رہیں اس بارے میں جو اللہ نے نازل کیا ہے۔ یہ فرائض اور حدود کے معاملہ میں ہے۔