السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: الاختيار في التحرز باب: بچاؤ اور احتیاط اختیار کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي أَبُو أَحْمَدَ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ شَاهِينَ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ خَالِدٍ يَعْنِي الْحَذَّاءَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ لَهُ يَوْمَ بَدْرٍ: " أَنْشُدُكَ عَهْدَكَ وَوَعْدَكَ، اللهُمَّ إِنْ شِئْتَ لَمْ تُعْبَدْ بَعْدَ هَذَا الْيَوْمِ أَبَدًا ". فَأَخَذَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِيَدِهِ، فَقَالَ: " حَسْبُكَ يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَدْ أَلْحَحْتَ عَلَى رَبِّكَ وَهُوَ فِي الدِّرْعِ ". فَخَرَجَ وَهُوَ يَقُولُ: {سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ، بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ} [القمر: ٤٦]. ⦗٨٠⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ شَاهِينَ.سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بدر کے دن اپنے خیمے میں تھے اور کہہ رہے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَنْشُدُكَ عَهْدَكَ وَوَعْدَكَ، اللَّهُمَّ إِنْ شِئْتَ لَمْ تُعْبَدْ بَعْدَ الْيَوْمِ» ”اے اللہ! میں تجھے تیرا وعدہ یاد دلاتا ہوں۔ اے اللہ! اگر تو چاہے تو آج کے بعد تیری عبادت نہیں کی جائے گی۔“ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آپ کا ہاتھ پکڑ کر کہا: اے اللہ کے رسول! کافی ہو گیا، آپ نے اللہ کے سامنے بہت اصرار کر لیا ہے۔ وہ اس وقت زرہ پہنے ہوئے تھے اور خیمے سے باہر آئے اور یہ آیات پڑھ رہے تھے: ﴿سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ * بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ﴾ [سورة القمر: 45-46] ”عنقریب یہ جماعت شکست کھائے گی اور یہ لوگ پیٹھیں پھیر کر بھاگیں گے۔ بلکہ قیامت ان کے وعدے کا وقت ہے اور قیامت زیادہ بڑی مصیبت اور زیادہ کڑوی ہے۔“