السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: ما على الوالي من أمر الجيش باب: لشکر کے معاملات میں حاکم پر کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " وَلَا يَنْبَغِي أَنْ يُوَلِّيَ الْإِمَامُ الْغَزْوَ إِلَّا ثِقَةً فِي دِينِهِ، شُجَاعًا بِبَدَنِهِ، حَسَنَ الْأَنَاةِ، عَاقِلًا لِلْحَرْبِ بَصِيرًا بِهَا، غَيْرَ عَجِلٍ وَلَا نَزِقٍ، وَيَتَقَدَّمُ إِلَيْهِ أَنْ لَا يَحْمِلَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى مَهْلَكَةٍ بِحَالٍ ".امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور امام کے لیے مناسب نہیں کہ وہ جہاد کی قیادت کسی ایسے شخص کے سوا کسی اور کو سونپے جو اپنے دین میں قابل اعتماد ہو، جسمانی طور پر بہادر ہو، بردبار اور تحمل مزاج ہو، جنگ کی سمجھ رکھنے والا اور اس میں بصیرت رکھنے والا ہو، جلد باز اور جذباتی (سبک سر) نہ ہو، اور امام اسے پہلے سے یہ تاکید کر دے کہ وہ کسی بھی حال میں مسلمانوں کو ہلاکت کی جگہ پر نہ دھکیلے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: ثنا حَاتِمٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَلَمَةَ بْنَ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: " غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ، وَخَرَجْتُ فِيمَا يَبْعَثُ مِنَ الْبُعُوثِ سَبْعَ مَرَّاتٍ، عَلَيْنَا مَرَّةً أَبُو بَكْرٍ، وَمَرَّةً عَلَيْنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ". لَفْظُ حَدِيثِ قُتَيْبَةَ، وَقَالَ مُحَمَّدٌ فِي الثَّانِيَةِ: تِسْعَ غَزَوَاتٍ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ الْمَكِّيِّ.حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے ساتھ سات غزوات میں شریک ہوا اور جو آپ ﷺ نے لشکر روانہ کیے، ان میں سے بھی سات میں میں شریک تھا، کبھی ہم پر سپہ سالار سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہوتے اور کبھی سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ۔ ایک حدیث میں نو لشکروں کا ذکر ہے۔