السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: الإمام يغزي من أهل دار من المسلمين بعضهم، ويخلف منهم في دارهم من يمنع دارهم باب: امام مسلمانوں کی کسی بستی کے بعض لوگوں کو جہاد پر بھیجے گا اور بعض کو پیچھے ان کے علاقوں کی حفاظت کے لیے چھوڑ دے گا۔
حدیث نمبر: 17896
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَى بَنِي لِحْيَانَ، وَقَالَ: " لِيَخْرُجْ مِنْ كُلِّ رَجُلَيْنِ رَجُلٌ ". ثُمَّ قَالَ لِلْقَاعِدِ: " أَيُّكُمْ خَلَفَ الْخَارِجَ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ بِخَيْرٍ كَانَ لَهُ مِثْلُ نِصْفِ أَجْرِ الْخَارِجِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَنْصُورٍ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بنو لحیان کی طرف ایک وفد بھیجا اور فرمایا: ”ہر دو آدمیوں میں سے ایک جہاد کے لیے نکلے۔“ آپ ﷺ نے پیچھے رہ جانے والوں سے فرمایا: ”جو جہاد پر جانے والے کا اس کے گھر اور مال میں عمدہ طریقے سے نائب بنا، اس کو جہاد پر جانے والے کے اجر کے نصف کے برابر اجر ملے گا۔“