السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: الإمام يغزي من أهل دار من المسلمين بعضهم، ويخلف منهم في دارهم من يمنع دارهم باب: امام مسلمانوں کی کسی بستی کے بعض لوگوں کو جہاد پر بھیجے گا اور بعض کو پیچھے ان کے علاقوں کی حفاظت کے لیے چھوڑ دے گا۔
حدیث نمبر: 17893
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: خَلَّفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَتُخَلِّفُنِي وَالنِّسَاءَ وَالصِّبْيَانَ؟ فَقَالَ: " أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى غَيْرَ أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي ". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ.حافظ ثناء اللہ
حضرت سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ تبوک کے موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پیچھے چھوڑا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑ رہے ہیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا آپ اس پر راضی نہیں ہیں کہ آپ کا میرے ساتھ وہ مقام ہو جو مقام ہارون (علیہ السلام) کا موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ تھا مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔“