السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: من ليس للإمام أن يغزو به بحال باب: اس شخص کا بیان جسے امام کے لیے کسی صورت اپنے ساتھ جہاد پر لے جانا جائز نہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رِجَالًا مِنَ الْمُنَافِقِينَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْغَزْوِ تَخَلَّفُوا عَنْهُ وَفَرِحُوا بِمَقْعَدِهِمْ خِلَافَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَذَرُوا إِلَيْهِ وَحَلَفُوا وَأَحَبُّوا أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا، فَنَزَلَتْ فِيهِمْ: {لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوْا وَيُحِبُّونَ أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا فَلَا تَحْسَبَنَّهُمْ بِمَفَازَةٍ مِنَ الْعَذَابِ} [آل عمران: ١٨٨]. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنِ الْحُلْوَانِيِّ وَابْنِ عَسْكَرٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مَرْيَمَ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " فَأَظْهَرَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لِرَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْرَارَهُمْ، وَخَبَرَ السَّمَّاعِينَ لَهُمْ وَأَتْبَاعِهِمْ أَنْ يَفْتِنُوا مَنْ مَعَهُ بِالْكَذِبِ وَالْإِرْجَافِ وَالتَّخْذِيلِ لَهُمْ، فَأَخْبَرَ أَنَّهُ كَرِهَ انْبِعَاثَهُمْ إِذَا كَانُوا عَلَى هَذِهِ النِّيَّةِ، فَكَانَ فِيهَا مَا دَلَّ عَلَى أَنَّ اللهَ جَلَّ ثَنَاؤُهُ أَمَرَ أَنْ يُمْنَعَ مَنْ عُرِفَ بِمَا عُرِفُوا بِهِ مِنْ أَنْ يَغْزُوا مَعَ الْمُسْلِمِينَ؛ لِأَنَّهُ لَا ضَرَرَ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ زَادَ فِي تَأْكِيدِ بَيَانِ ذَلِكَ بِقَوْلِهِ: {فَرِحَ الْمُخَلَّفُونَ بِمَقْعَدِهِمْ خِلَافَ رَسُولِ اللهِ} [التوبة: ٨١] قَرَأَ إِلَى قَوْلِهِ: {فَاقْعُدُوا مَعَ الْخَالِفِينَ} [التوبة: ٨٣].ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کچھ منافقین نبی ﷺ کے دور میں اس طرح کرتے کہ جب آپ غزوہ کے لیے نکلتے تو پیچھے رہ جاتے اور نبی ﷺ کی مخالفت میں بیٹھ کر خوش ہوتے تھے، اور جب رسول اللہ ﷺ واپس آتے تو یہ لوگ عذر کرتے اور قسم اٹھاتے اور چاہتے کہ اللہ کے رسول ان کی تعریف کریں ایسے کام پر جو انھوں نے نہیں کیا۔ تو ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: ﴿لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوا وَّيُحِبُّونَ أَن يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا فَلَا تَحْسَبَنَّهُم بِمَفَازَةٍ مِّنَ الْعَذَابِ﴾ [سورة آل عمران: 188] ”ان لوگوں کو ہرگز خیال نہ کر جو ان (کاموں) پر خوش ہوتے ہیں جو انھوں نے کیے اور پسند کرتے ہیں کہ ان کی تعریف ان (کاموں) پر کی جائے جو انھوں نے نہیں کیے، تو انھیں عذاب سے بچ نکلنے میں کامیاب ہرگز خیال نہ کر اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ عزوجل نے اپنے رسول ﷺ پر ان کے راز کھول دیے اور ان کی باتیں سننے والوں اور ان کے پیروکاروں کی خبر بھی ظاہر کر دی اور ان کا یہ چاہنا کہ آپ کے ساتھیوں کو جھوٹ کا سہارا لے کر فتنہ میں ڈال دیں اور بری خبریں پھیلا کر اور آپ کے ساتھیوں کو آپ کی مدد سے ہاتھ کھینچنے کی ترغیب دلا کر، اور اللہ نے خبر دی کہ وہ ان کا اس نیت کے ساتھ جانا ناپسند کرتا ہے یہ اس کی دلیل ہے کہ اللہ نے حکم دیا ہے کہ جس کے بارے میں پتہ چل جائے تو ان کو مسلمانوں کے غزوہ میں شریک نہ کیا جائے کیونکہ (انہیں روکنے میں) مسلمانوں کا کوئی نقصان نہیں۔ پھر اس کی مزید تاکید اس قول سے ہوتی ہے: ﴿فَرِحَ الْمُخَلَّفُونَ بِمَقْعَدِهِمْ خِلَافَ رَسُولِ اللَّهِ﴾ [سورة التوبة: 81] ”پیچھے رہنے والے اللہ کے رسول کی مخالفت میں بیٹھ کر خوش ہوتے ہیں۔“ انھوں نے یہاں تک پڑھا: ﴿فَاقْعُدُوا مَعَ الْخَالِفِينَ﴾ [سورة التوبة: 83] ”پیچھے رہنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو۔“