السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: من ليس للإمام أن يغزو به بحال باب: اس شخص کا بیان جسے امام کے لیے کسی صورت اپنے ساتھ جہاد پر لے جانا جائز نہیں۔
حدیث نمبر: 17859
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " غَزَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَغَزَا مَعَهُ بَعْضُ مَنْ يُعْرَفُ نِفَاقُهُ، فَانْخَزَلَ عَنْهُ يَوْمَ أُحُدٍ بِثَلَاثِمِائَةٍ ". قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: هُوَ بَيِّنٌ فِي الْمَغَازِي.حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نبی ﷺ نے جنگیں لڑیں، آپ ﷺ کے ساتھ بعض ایسے لوگوں نے بھی جنگ لڑی جن کا نفاق ظاہر تھا اور احد کے دن تین سو آدمی آپ سے الگ ہو گئے تھے۔ شیخ فرماتے ہیں: اس کی وضاحت مغازی میں ہے۔