السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: ما جاء في تجهيز الغازي وأجر الجاعل باب: غازی کو سامانِ جنگ مہیا کرنے اور اجرت مقرر کرنے والے کے اجر و ثواب کا بیان۔
حدیث نمبر: 17844
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ، أنبأ أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، فَذَكَرَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَقَالَ: " مَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُكَ، وَلَكِنِ ائْتِ فُلَانًا ". فَأَتَاهُ فَحَمَلَهُ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ: " مَنْ دَلَّ عَلَى خَيْرٍ فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ فَاعِلِهِ ".حافظ ثناء اللہ
اعمش رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے پاس کچھ نہیں جو میں تم کو سواروں کے لیے دوں، ہاں تم فلاں آدمی کے پاس جاؤ۔“ وہ گیا، اس آدمی نے اس کو سواری دے دی۔ یہ آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور خبر دی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”بھلائی کی طرف راہنمائی کرنے والا اور اس پر عمل کرنے والا اجر میں برابر ہیں۔“