السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: ما جاء في تجهيز الغازي وأجر الجاعل باب: غازی کو سامانِ جنگ مہیا کرنے اور اجرت مقرر کرنے والے کے اجر و ثواب کا بیان۔
حدیث نمبر: 17842
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَفَّانُ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي أُرِيدُ الْجِهَادَ وَلَيْسَ مَعِي مَا أَتَجَهَّزُ بِهِ. فَقَالَ: " إِنَّ فُلَانًا قَدْ تَجَهَّزَ ثُمَّ مَرِضَ فَاذْهَبْ إِلَيْهِ، فَقُلْ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقْرِئُكَ السَّلَامَ، وَيَأْمُرُكَ أَنْ تُعْطِيَنِي مَا أَتَجَهَّزُ بِهِ ". فَأَتَاهُ، فَقَالَ لِامْرَأَتِهِ: انْظُرِي أَنْ تُعْطِيَهُ مَا جَهَّزْتِنِي بِهِ وَلَا تَحْبِسِي مِنْهُ شَيْئًا فَيُبَارِكَ اللهُ لَكِ فِيهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ عَفَّانَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بنو اسلم سے ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: میں جہاد پر جانے کا ارادہ رکھتا ہوں مگر میرے پاس زادِ راہ نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”فلاں آدمی نے جہاد کی تیاری کی، پھر وہ بیمار ہو گیا، تو اس کے پاس جا اور اس کو کہہ کہ رسول اللہ ﷺ تجھے سلام کہتے ہیں اور تجھے حکم دیتے ہیں کہ زادِ راہ مجھے دے دے جس سے میں جہاد کی تیاری کر سکوں۔“ وہ آدمی اس کے پاس گیا اور اس کو (یہ پیغام) کہا، تو اس نے اپنی بیوی سے کہا: جو کچھ میرے لیے تیار کیا تھا وہ اسے دے دو اور کوئی چیز روک کر نہ رکھنا، اللہ تجھے برکت دے گا۔