السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: الرجل لا يجد ما ينفق باب: اس شخص کے بیان میں جسے جہاد کے لیے خرچ کرنے کو کچھ نہ ملے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ يَحْيَى، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا رِيَاحُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ طَلَعَ عَلَيْنَا شَابٌّ مِنَ الثَّنِيَّةِ، فَلَمَّا رَأَيْنَاهُ بِأَبْصَارِنَا قُلْنَا: لَوْ أَنَّ هَذَا الشَّابَّ جَعَلَ شَبَابَهُ وَنَشَاطَهُ وَقُوَّتَهُ فِي سَبِيلِ اللهِ. قَالَ: فَسَمِعَ مَقَالَتَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " وَمَا سَبِيلُ اللهِ إِلَّا مَنْ قَتَلَ؟ مَنْ سَعَى عَلَى وَالِدَيْهِ فَفِي سَبِيلِ اللهِ، وَمَنْ سَعَى عَلَى عِيَالِهِ فَفِي سَبِيلِ اللهِ، وَمَنْ سَعَى عَلَى نَفْسِهِ لِيُعِفَّهَا فَفِي سَبِيلِ اللهِ، وَمَنْ سَعَى عَلَى التَّكَاثُرِ فَهُوَ فِي سَبِيلِ الشَّيْطَانِ ".حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بیٹھے تھے، اچانک ایک نوجوان ثنیہ کی پہاڑیوں سے نمودار ہوا۔ جب ہم نے اس کو دیکھا تو ہم نے کہا: کاش اس جوان کی جوانی، چستی اور قوت اللہ تعالیٰ کے راستے میں ہو۔ راوی کہتا ہے: ہماری بات کو رسول اللہ ﷺ نے سن لیا اور فرمایا: ”صرف اللہ کے راستے میں قتل ہونا ہی «سَبِيلِ اللہِ» ”اللہ کا راستہ“ ہے؟ جس نے اپنے والدین کی خدمت کی وہ اس کے راستے میں ہے اور جس نے اپنے خاندان کی کفالت کی وہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں ہے اور جس نے اپنے نفس کی حفاظت کی تاکہ اس کو بچا کر رکھے، وہ بھی اللہ تعالیٰ کے راستے میں ہے اور جس نے زیادہ مال جمع کرنے کی کوشش کی وہ شیطان کے راستے پر ہے۔“