السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: من خرج من بيته مهاجرا فأدركه الموت في طريقه باب: جو شخص ہجرت کی غرض سے اپنے گھر سے نکلا اور راستے میں ہی اسے موت آ گئی، اس کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ،، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ خُزَاعَةَ كَانَ بِمَكَّةَ فَمَرِضَ، وَهُوَ ضَمْرَةُ بْنُ الْعِيصِ بْنِ ضَمْرَةَ بْنِ زِنْبَاعٍ، فَأَمَرَ أَهْلَهُ، فَفَرَشُوا لَهُ عَلَى سَرِيرٍ فَحَمَلُوهُ وَانْطَلَقُوا بِهِ مُتَوَجِّهًا إِلَى الْمَدِينَةِ، فَلَمَّا كَانَ بِالتَّنْعِيمِ مَاتَ، فَنَزَلَتْ: {وَمَنْ يَخْرُجْ مِنْ بَيْتِهِ مُهَاجِرًا إِلَى اللهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ يُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُهُ عَلَى اللهِ} [النساء: ١٠٠]، وَكَذَلِكَ قَالَهُ الْحَسَنُ وَغَيْرُهُ مِنَ الْمُفَسِّرِينَ.حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خزاعہ قبیلہ سے ایک (مسلمان) آدمی مکہ میں تھا اور وہ بیمار ہو گیا، اس کا نام ضمرہ بن عیص تھا یا عیص بن ضمرہ بن زنباع تھا۔ اس نے اپنے گھر والوں کو حکم دیا کہ وہ اسے مدینہ پہنچائیں۔ انہوں نے اسے چارپائی پر اٹھا لیا اور مدینہ کی جانب سفر کر دیا۔ جب وہ تنعیم کے مقام پر پہنچے تو یہ آدمی سفر میں ہی فوت ہو گیا، تو اس وقت یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: ﴿وَمَنْ يَخْرُجْ مِنْ بَيْتِهِ مُهَاجِرًا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ يُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ﴾ [سورة النساء: 100] ”جو شخص اپنے گھر سے اللہ کے لیے ہجرت کر لے اور پھر اسے راستے میں موت آ جائے تو اس کا اجر اللہ پر واقع ہو گیا۔“ یہی تفسیر حسن بصری رحمہ اللہ اور دوسرے مفسرین نے کی ہے۔