السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: مبتدأ الإذن بالقتال باب: قتال (جہاد) کی اجازت کے آغاز کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ قَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ بِمَرْوَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ حَاتِمٍ الْبَاشَانِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، وَأَصْحَابًا لَهُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، أَتَوَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللهِ كُنَّا فِي عِزٍّ وَنَحْنُ مُشْرِكُونَ فَلَمَّا آمَنَّا صِرْنَا أَذِلَّةً. فَقَالَ: " إِنِّي أُمِرْتُ بِالْعَفْوِ فَلَا تُقَاتِلُوا الْقَوْمَ ". فَلَمَّا حَوَّلَهُ اللهُ إِلَى الْمَدِينَةِ أَمَرَهُ بِالْقِتَالِ فَكَفُّوا، فَأَنْزَلَ اللهُ: {أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ قِيلَ لَهُمْ كُفُّوا أَيْدِيَكُمْ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَالُ إِذَا فَرِيقٌ مِنْهُمْ يَخْشَوْنَ النَّاسَ} [النساء: ٧٧].سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی نبی ﷺ کے پاس آئے اور کہا: ”اے اللہ کے نبی! جب ہم مشرک تھے تو ہم بڑے عزت والے تھے اور جب ہم نے اسلام قبول کیا تو ہم ذلیل ہو گئے“، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے درگزر کا حکم دیا گیا اور قتال کرنے سے منع کیا گیا ہے“۔ پھر جب آپ ﷺ مدینہ میں چلے گئے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو قتال کرنے کا حکم دے دیا۔ جب قتال کا حکم ملا تو یہ لوگ قتال سے رک گئے، تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ قِيلَ لَهُمْ كُفُّوا أَيْدِيَكُمْ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَالُ إِذَا فَرِيقٌ مِّنْهُمْ يَخْشَوْنَ النَّاسَ﴾ [سورة النساء: 77] ”کیا آپ ﷺ نے ان لوگوں کی طرف نہیں دیکھا جن کو کہا گیا کہ (ابھی) اپنے ہاتھ لڑائی سے روکو اور نماز قائم کرو اور زکاۃ ادا کرو، پس جب ان پر قتال فرض ہوا تو ان میں سے ایک گروہ لوگوں سے ڈرنے لگ گیا۔“