السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: مبتدأ الإذن بالقتال باب: قتال (جہاد) کی اجازت کے آغاز کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، أنبأ شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكِبَ عَلَى حِمَارٍ عَلَى إِكَافٍ عَلَى قَطِيفَةٍ فَدَكِيَّةٍ وَأَرْدَفَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ وَرَاءَهُ يَعُودُ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ فِي بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ قَبْلَ وَقْعَةِ بَدْرٍ، فَسَارَ حَتَّى مَرَّ بِمَجْلِسٍ فِيهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أُبَيٍّ، فَإِذَا بِالْمَجْلِسِ رِجَالٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُشْرِكِينَ عَبْدَةِ الْأَوْثَانِ وَالْيَهُودِ وَفِي الْمُسْلِمِينَ عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ، فَلَمَّا غَشِيَتِ الْمَجْلِسَ عَجَاجَةُ الدَّابَّةِ خَمَّرَ ابْنُ أُبَيٍّ أَنْفَهُ بِرِدَائِهِ، ثُمَّ قَالَ: لَا تُغَبِّرُوا عَلَيْنَا، فَسَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ وَقَفَ فَنَزَلَ، فَدَعَاهُمْ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَقَرَأَ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ، قَالَ: فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ: أَيُّهَا الْمَرْءُ، إِنَّهُ لَا أَحْسَنَ مِمَّا تَقُولُ إِنْ كَانَ حَقًّا فَلَا تُؤْذِنَا بِهِ فِي مَجْلِسِنَا، ارْجِعْ إِلَى رَحْلِكَ فَمَنْ جَاءَكَ فَاقْصُصْ عَلَيْهِ. فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، فَاغْشَنَا بِهِ فِي مَجَالِسِنَا، فَإِنَّا نُحِبُّ ذَلِكَ. فَاسْتَبَّ الْمُسْلِمُونَ وَالْمُشْرِكُونَ وَالْيَهُودُ حَتَّى كَادُوا يَتَثَاوَرُونَ، فَلَمْ يَزَلِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَفِّضُهُمْ حَتَّى سَكَتُوا، ثُمَّ رَكِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَابَّتَهُ فَسَارَ حَتَّى دَخَلَ عَلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا سَعْدُ أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالَ أَبُو حُبَابٍ ". يُرِيدُ عَبْدَ اللهِ بْنَ أُبَيٍّ، " قَالَ كَذَا وَكَذَا "، فَقَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ: يَا رَسُولَ اللهِ اعْفُ عَنْهُ وَاصْفَحْ، فَوَالَّذِي أَنْزَلَ الْكِتَابَ لَقَدْ جَاءَ اللهُ بِالْحَقِّ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَيْكَ، وَلَقَدِ اصْطَلَحَ أَهْلُ هَذِهِ الْبُحَيْرَةِ عَلَى أَنْ يُتَوِّجُوهُ فَيُعَصِّبُوهُ، فَلَمَّا رَدَّ اللهُ ذَلِكَ بِالْحَقِّ الَّذِي أَعْطَاكَ شَرَّقَ بِذَلِكَ، فَذَلِكَ فَعَلَ بِهِ مَا رَأَيْتَ. فَعَفَا عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ وَأَصْحَابُهُ يَعْفُونَ عَنِ الْمُشْرِكِينَ وَأَهْلِ الْكِتَابِ، كَمَا أَمَرَهُمُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَيَصْبِرُونَ عَلَى الْأَذَى، قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا أَذًى كَثِيرًا وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ ذَلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ} [آل عمران: ١٨٦]، وَقَالَ اللهُ: {وَدَّ كَثِيرٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَوْ يَرُدُّونَكُمْ مِنْ بَعْدِ إِيمَانِكُمْ كُفَّارًا حَسَدًا مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِهِمْ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ فَاعْفُوا وَاصْفَحُوا حَتَّى ⦗١٩⦘ يَأْتِيَ اللهُ بِأَمْرِهِ إِنَّ اللهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ} [البقرة: ١٠٩]، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَأَوَّلُ فِي الْعَفْوِ مَا أَمَرَ اللهُ بِهِ حَتَّى أُذِنَ لَهُمْ فِيهِمْ، فَلَمَّا غَزَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدْرًا فَقَتَلَ اللهُ بِهِ مَنْ قَتَلَ مِنْ صَنَادِيدِ كُفَّارِ قُرَيْشٍ، قَالَ ابْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ وَمَنْ مَعَهُ مِنْ عَبْدَةِ الْأَوْثَانِ: هَذَا أَمْرٌ قَدْ تَوَجَّهَ. فَبَايَعُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْإِسْلَامِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، وَأَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ مَعْمَرٍ وَعُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ.حضرت عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے فرمایا کہ مجھے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ نبی ﷺ ایک گدھے پر سوار ہوئے جس پر پالان بندھا ہوا تھا اور نیچے فدک کی بنی ہوئی ایک مخملی چادر بچھی ہوئی تھی اور آپ ﷺ نے اپنے پیچھے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو بٹھایا ہوا تھا۔ آپ ﷺ بنی حارث بن خزرج میں حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے تشریف لے جا رہے تھے۔ یہ جنگ بدر سے پہلے کا واقعہ ہے۔ نبی ﷺ نے سفر کیا حتیٰ کہ ایک مجلس سے گزرے جس میں عبداللہ بن ابی بن سلول بھی تھا اور یہ اس کے اسلام لانے سے پہلے کا واقعہ ہے اور اسی طرح اس مجلس کے اندر مسلمان، مشرکین، بت پرست اور یہودی سب شریک تھے اور مسلمانوں میں سے عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ جب مجلس پر سواری کا گرد پڑا تو عبداللہ بن ابی نے اپنی چادر سے اپنی ناک چھپالی اور پھر کہا: ہمارے اوپر غبار نہ اڑاؤ۔ رسول اکرم ﷺ نے سلام کیا اور وہاں رک گئے اور اتر کر انہیں اللہ کی طرف بلایا اور ان کو قرآن مجید کی تلاوت بھی سنائی۔ عبداللہ بن ابی بن سلول بولا: میاں میں ان باتوں کے سمجھنے سے قاصر ہوں اور اگر وہ چیز جو تو کہتا ہے حق ہے تو ہماری مجلسوں میں آکر ہمیں تکلیف نہ دیا کرو، اپنے گھر جاؤ اور ہم سے جو تمہارے پاس آئے اس سے بیان کرو۔ اس پر حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ ﷺ! آپ ہماری مجلسوں میں تشریف لایا کریں، کیونکہ ہم اسے پسند کرتے ہیں۔ پھر مسلمانوں، مشرکوں اور یہودیوں میں تو تو میں میں ہونے لگی اور قریب تھا کہ وہ ایک دوسرے پر حملہ کردیتے۔ لیکن آپ ﷺ انہیں برابر خاموش کرتے رہے اور جب وہ خاموش ہوگئے تو نبی ﷺ اپنی سواری پر بیٹھ کر حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے یہاں گئے۔ پھر آپ ﷺ نے ان سے کہا: ”اے سعد! کیا تم نے نہیں سنا کہ ابو حباب نے آج کیا بات کہی؟“ آپ کا اشارہ عبداللہ بن ابی کی طرف تھا کہ اس نے یوں یوں باتیں کہی ہیں۔ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! اسے معاف کردیجیے اور درگزر فرمائیے، اس ذات کی قسم جس نے کتاب کو نازل فرمایا: اللہ تعالیٰ نے وہ حق آپ کو عطا فرمایا ہے جو عطا فرمانا تھا۔ اس بستی (مدینہ منورہ) کے لوگ (آپ کی تشریف آوری سے پہلے) اس بات پر متفق ہوگئے تھے کہ اسے تاج پہنا دیں اور شاہی عمامہ اس کے سر پر باندھ دیں لیکن جب اللہ تعالیٰ نے اس منصوبہ کو اس حق کی وجہ سے ختم کردیا جو اس نے آپ کو عطا فرمایا ہے تو اسے حق سے حسد ہوگیا اور اسی وجہ سے اس نے یہ معاملہ کیا ہے جو آپ نے دیکھا، تو اسے نبی ﷺ نے معاف کردیا اور آپ کے اصحاب رضی اللہ عنهم بھی مشرکین اور اہل کتاب کو معاف کرتے تھے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا اور وہ ان کی تکلیفوں پر صبر کیا کرتے تھے (کیونکہ) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿لَتُبْلَوُنَّ فِي أَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا أَذًى كَثِيرًا وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ ذَلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ﴾ [سورة آل عمران: 186] ”اور تمہیں ضرور بالضرور تمہارے مالوں اور تمہاری جانوں میں آزمایا جائے گا اور جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی اور جو مشرک ہیں ان سے تمہیں بہت سی ایذا دہ باتیں سننا پڑیں گی اور اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو بے شک یہ ہمت کے کاموں میں سے ہے“ اور اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَدَّ كَثِيرٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَوْ يَرُدُّونَكُمْ مِنْ بَعْدِ إِيمَانِكُمْ كُفَّارًا حَسَدًا مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِهِمْ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ فَاعْفُوا وَاصْفَحُوا حَتَّى يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴾ [سورة البقرة: 109] ”اہلِ کتاب کے بہت سے لوگ چاہتے ہیں کہ وہ تمہیں تمہارے ایمان لانے کے بعد کفر میں لوٹا دیں اپنی طرف سے حسد کرتے ہوئے اور حق واضح ہوجانے کے بعد۔ پس ان کو معاف کرو اور ان سے درگزر کرتے رہو حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی حکم آجائے۔ بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔“ نبی ﷺ عفو و درگزر سے کام لیتے رہے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان کے بارے میں اجازت دے دی اور جب آپ ﷺ نے بدر کی لڑائی لڑی تو اس میں اللہ تعالیٰ نے کفارِ قریش کے بڑے بڑے سرداروں کو قتل کروا دیا تو عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں نے کہا کہ اب یہ (دین) غالب آجائے گا، لہٰذا انہوں نے آپ ﷺ کے ہاتھ پر اسلام کی بیعت کرلی۔